رسائی کے لنکس

عالمی حدت میں اضافے کو روکنے کی کوششیں


عالمی حدت میں اضافے کو روکنے کی کوششیں
عالمی حدت میں اضافے کو روکنے کی کوششیں

ساری دنیا میں ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تا کہ عالمی حدت کو روکا جا سکے۔ کچھ ماہرین اب کرہ ارض کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک ایسا طریقہ استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں جسے انھو ں نے جیوانجیئرنگ کا نام کا نام دیا ہے۔ یہ تجویز بڑی متنازعہ ہے اور اس کو تفصیل سے ایک نئی کتاب’’ہاؤ ٹو کول دی پلینٹ‘‘یعنی ہم دنیا کو ٹھنڈا کیسے کریں، پیش کیا گیا ہے۔

کتاب کے مصنف Jeff Goodell کا خیال ہے کہ یوں تو جیوانجینیئرنگ کا تصور کسی حد تک پاگل پن لگتا ہے لیکن گذشتہ سال کوپن ہیگن میں آب و ہوا کی تبدیلی کے بارے میں کانفرنس کی ناکامی کے بعد، ہو سکتا ہے کہ دنیا کے پاس ٹیکنالوجیکل طریقہ استعمال کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو۔ وہ کہتےہیں کہ عالمی حدت کے مسئلے کو حل کرنے کے جیوانجینیئرنگ پر مبنی دو طریقے ہیں۔

پہلا تو یہ کہ ماحول سے کاربن ہٹانے کے لیے ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے اور دوسرا یہ کہ سورج کی روشنی کو بلاک کر دیا جائے۔

Goodell کہتے ہیں کہ دوسرے طریقے میں کامیابی کا امکان زیادہ ہے۔ بنیادی طور پر اس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ کیفیت پیدا کی جائے گی جو آتش فشاں پھٹنے سے ہوتی ہے یعنی کرہ ہوائی کے ان ذرات کو جو سورج کی روشنی ہم تک پہنچاتے ہیں، واپس خلا میں پہنچا دیا جائے۔

عالمی حدت میں اضافے کو روکنے کی کوششیں
عالمی حدت میں اضافے کو روکنے کی کوششیں

ماحولیات کے بیشتر ماہرین نظامِ قدرت میں اس قسم کی مداخلت کی تجویزوں کے سخت مخالف ہیں۔ لیکن Goodell کہتے ہیں کہ انسان پہلے ہی آب و ہوا میں ردو بدل کر رہا ہے، لیکن اس طریقے سے نہیں جو عقل پر مبنی ہو یا جو فائدہ مند ہو’’ہم پہلے ہی دنیا کی آب و ہوا میں زبردست تبدیلیاں لا رہے ہیں کیوں کہ ہم ہر سال ماحول میں اربوں ٹن گرین ہاؤس گیسیں پھینک رہے ہیں۔ تو سوال یہ نہیں ہے کہ ہم نظامِ قدرت میں خلل اندازی کریں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم یہ کام زیادہ دانشمندی اورذہانت سے کر سکتے ہیں۔ اب ایسی ٹیکنالوجیزموجود ہیں جن سے آب و ہوا میں ڈرامائی تبدیلیوں کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے‘‘۔

اپنی کتاب ہاؤٹوکول دی پلینٹ میںGoodell نے جیو انجینیرنگ پر ریسرچ کرنے والے سائنسدانوں کی بعض تجاویز کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب کوئی نہ کوئی اس طریقے کو آزمائے گا’’اچھا تو یہ ہوتا کہ یہ کام منظم انداز سے کیا جاتا۔ دنیا کے تمام ملکوں کے نمائندوں کے درمیان اتفاق رائے سے یہ فیصلہ ہوتا کہ ہم یہ کام کس طرح کریں گے۔ لیکن اصل مسئلہ انفرادی ملکوں کا ہے کیوں کہ زمین کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کرہ ہوائی میں ذرات پہنچنا نسبتاً سستا کام ہے۔ کوئی ایک مالدار ملک یا کئی ملک مِل کر، بلکہ کوئی ایک ارب پتی فرد بھی یہ کام کر سکتا ہے‘‘۔

لیکن Goodell کو اور بہت سے ماہرین کے لیے فکر کی بات یہ ہے کہ کوئی ایک ملک یا فرد، عالمی حدت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایسی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتا ہے جس سے حالات اور زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ Goodell کہتے ہیں کہ’’ آپ کسی بدنیت ملک کو نیوکلیئر ہتھیار فضا میں چھوڑنے سے کیسے روکیں گے؟ آپ کسی بد نیت ملک یا کسی بدمعاش فرد یا بعض ملکوں کے مجموعوں کو یہ طے کرنے سے کیسے روکیں کہ کرہ ارض کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنا ان کے مفاد میں ہے؟‘‘

Goodell کہتے ہیں کہ عالمی حدت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے جو سائنسداں ٹیکنالوجی پر مبنی حل تلاش کر رہےہیں، انہوں نے اب تک اپنا کام خاموشی سے کیا ہے۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ ماحولیات کے ماہرین جو اس تصور کے خلاف ہیں، ان پر تنقید کرنے لگیں۔

بہت سے سائنسدانوں کو اس طریقے میں مضمر خطرات کے بارے میں تشویش بھی ہے۔ لیکن Goodell کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سائنسداں، ماحولیات کے ماہر، انسانی حقوق کے گروپ اور حکومتیں کھل کر ان تجاویز پر بحث کریں اوران پر ریسرچ کو فروغ دیں’’میں نے اپنی کتاب میں جن سائنسدانوں کے بارے میں لکھا ہے وہ پوری طرح اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی حدت میں کمی کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم گرین ہاؤس گیسوں کے بخارات کو کم کریں۔ لیکن میری طرح، وہ بھی جانتے ہیں کہ ایسا ہوگا نہیں۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے پر زیادہ بامعنی تبادلہ خیال ہو تا کہ ہم اپنی دنیا کو جو شکل دے رہے ہیں، اسے بہتر طور پر سمجھ سکیں‘‘۔

Goodell کہتے ہیں کہ اگر دنیا ایک بار یہ سمجھ لے کہ آب و ہوا کی تبدیلی سے کتنا سنگین بحران پیدا ہو رہا ہے تو پھر جیو انجینیئرنگ کے ایک بہت بڑے پراجیکٹ کی لاگت کی کوئی فکر نہیں کرے گا۔ جیوانجینیئرنگ ریسرچ کے اعلیٰ قسم کے پروگرام سے نہ صرف مختلف تجویزوں کی ممکنہ لاگت اور ان کے خطرات کے بارے میں معلومات حاصل ہوں گی، بلکہ اس سے ہماری دنیا کے بارے میں خالص سائنسی معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔

XS
SM
MD
LG