رسائی کے لنکس

اخراجاتی بل پر سمجھوتہ نہ ہوا تو جمعے سے امریکی حکومت بند ہو سکتی ہے


جنوری 2018 میں حکومتی امور کی عارضی بندش کے دورن واشنگٹن میں یو ایس کیپیٹل بلڈنگ کے سامنے شٹ ڈاؤن سے متعلق بورڈ دکھائی دے رہا ہے۔ 22 جنوری 2018
جنوری 2018 میں حکومتی امور کی عارضی بندش کے دورن واشنگٹن میں یو ایس کیپیٹل بلڈنگ کے سامنے شٹ ڈاؤن سے متعلق بورڈ دکھائی دے رہا ہے۔ 22 جنوری 2018

جمعہ کی نصف شب تک اگر وائٹ ہاؤس اور قانون سازوں کے درمیان اخراجاتی منصوبے پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو ایک چوتھائی امریکی حکومت اپنا کام بند کرنا پڑے گا۔ اخراجاتی منصوبے میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لئے، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحد پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ دیوار کے لئے فنڈ کی فراہمی شامل ہے۔

تین چوتھائی حکومتی امور چلانے کے لئے اخراجات، آئندہ سال ستمبر تک پہلے سے ہی منظور کر لئے گئے تھے۔ تاہم باقی اخراجات میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لئے فنڈ، اور ممکنہ طور پر دیوار کی تعمیر کے لئے رقوم کی فراہمی شامل ہے، جو صدر ٹرمپ کا سن 2016 کی انتخابی مہم کے دوران سب سے بڑا وعدہ تھا۔

لیکن دیوار کی تعمیر کے لئے درکار 20 ارب ڈالر میں سے 5 ارب ڈالر کی فوری فراہمی کے مطالبے کی ،ڈیموکریٹ جماعت کے قانون ساز اور چند ریپبلکن قانون ساز سخت مخالفت کر رہے ہیں، جس کے باعث اس دیوار کا مستقبل مشکوک ہو گیا ہے۔

ڈیموکریٹ ارکان نے سرحد پر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی پیشکش کی ہے، جو کہ صرف دیوار کے لئے مخصوص نہیں ہے۔
گزشتہ ہفتے، صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا تھا کہ اگر اخراجاتی بل میں دیوار کی تعمیر کے لئے فنڈز شامل نہ ہوئے تو وہ کاروبار حکومت بند کر دیں گے۔ لیکن، جمعے کے روز ممکنہ شٹ ڈاؤن سے بچنے کے لئے وہ کسی عارضی اور متبادل اخراجاتی منصوبے پر بھی سمجھوتہ کر سکتے ہیں جس سے حکومتی امور سن 2019 کے آخر تک چل سکیں۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے علاوہ، محکمہ خارجہ، محکمہ انصاف اور محکمہ داخلہ کے لئے فنڈ کی فراہمی بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

اس سال جنوری میں حکومت کی عارضی بندش کے موقع پر سٹیچو آف لبرٹی کی تفریح گاہ بند ہونے کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ جنوزی 2018
اس سال جنوری میں حکومت کی عارضی بندش کے موقع پر سٹیچو آف لبرٹی کی تفریح گاہ بند ہونے کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ جنوزی 2018

گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران، صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹ جماعت کے چوٹی کے راہنماؤں، ایوان کی نامزد سپیکر نینسی پلوسی، اور سینٹ میں اقلیتی ڈیموکریٹ جماعت کے لیڈر سینیٹر چک شُمر کو واضح الفاظ میں کہا تھا کہ وہ سرحدی دیوار کی تعمیر سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور کاروبار حکومت بند ہونے کی ذمہ داری لینے میں خوشی محسوس کریں گے۔

اگر حکومت کو جزوی بندش کی جانب دھکیلا جاتا ہے، تو یہ مختصر ہو گی۔ اس سال کے اوائل میں دو بار ایسا ہو چکا ہے، پہلی دفعہ حکومت تین دن کے لئے اور دوسری مرتبہ صرف 6 گھنٹوں کے لئے بند ہوئی تھی۔

یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت امریکی تاریخ میں سب سے طویل بندش کی جانب جائے، جیسا کہ 16 دسمبر سن 2016 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد طویل ترین کاروبار حکومت اکتوبر سن 2013 میں 16 روز کے لئے بند ہوا تھا، جب سرکاری ملازمین کو فرلو پر بھیج دیا گیا تھا اور یو ایس آفس آف مینیجمنٹ اینڈ بجٹ کے مطابق، ملازمین کو تنخواہوں اور مراعات کی شکل میں ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

جب بھی کاروبار حکومت کے بند ہونے کی بات ہوتی ہے، تو پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ قومی حکومت کے کون سے محکمے اپنا کام جاری رکھیں گے۔ عمومی طور پر ان میں یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کا محکمہ آتا ہو جو اپنا کام جاری رکھے گا۔
ماضی میں نیشنل پارکس کا محکمہ بھی بند ہو اتھا، لیکن اس برس، جب دو مرتبہ کاروبار حکومت بند ہوا، تو آفس آف بجٹ اینڈ مینیجمنٹ کے سربراہ مِک مُلوانی کا کہنا تھا کہ یہ محکمہ اپنا کام جاری رکھے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنل ریوینیو سروس ٹیکس ری فنڈ کا عمل جاری نہیں رکھ پائے گی۔ ہیلتھ سیفٹی انسپیکشن بھی رک جائے گی۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے بیشتر ملازمین کو بھی اپنا کام بند کرنا پڑے گا، اور شاید انہیں اس دورانیے کی تنخواہ بھی نہ مل سکے۔ تاہم کانگریس اکثر اوقات فرلو پر بھیجے گئے ملازمین کی تنخواہوں کو واپس کر دیتی ہے۔ نئے شٹ داؤن میں،3 لاکھ 80 ہزار ملازمین کو فرلو پر بھیج دیا جائے گا اور وہ کام نہیں کریں گے۔ تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار ملازمیں اپنا کام جاری رکھیں گے۔
وائس آف امریکہ اپنی نشریات جاری رکھے گی، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر، ایف بی آئی، ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈ منسٹریشن اور صدر کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس کے ایجنٹ بھی کام جاری رکھیں گے۔
جمعے کے روز کی مقررہ تاریخ اخراجاتی منصوبے پر طے پانے والے اس سمجھوتے کا حصہ ہے، جس پر کانگریس اس سال ستمبر میں پہنچی تھی۔

ستمبر میں طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق، سات اخراجاتی بلوں کا 7 دسمبر تک منظور ہونا لازم تھا۔ یہ بل ابھی تک منظور نہیں ہوئے۔ لیکن سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے انتقال کی وجہ سے مقررہ تاریخ کو دو ہفتوں کے لئے موخر کرنا پڑا۔
ڈیموکریٹ جماعت کے لیڈر ، سینیٹر چک شمر نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ اخراجاتی بل کی منظوری میں ایک اور ممکنہ رکاوٹ، ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے یہ ہو گی کہ کانگریس ایک اور مسودہ قانون کی بھی منظوری دے جس کے تحت سن 2016 کی انتخابی مہم میں روسی مداخلت پر جاری خصوصی کونسل رابرٹ مُلر کی تحقیقات کو صدر ٹرمپ ، روکنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ تاہم کاروبار حکومت بند ہونے کی تلوار ان تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو گی کیونکہ اس کے لئے درکار فنڈ کی منظوری پہلے ہی ہو چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG