رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن، عارضی اخراجات بل پر ووٹنگ پیر کو طے


سینیٹر مچ مکونل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اتوار کے روز کہا ہے کہ اگر شٹ ڈاؤن کے بارے میں تعطل برقرار رہا تو رپبلکن ارکان کو چاہئیے کہ وہ سنیٹ کے قوانین میں تبدیلی کر کے حکومت کا کام چلانے کیلئے فنڈز کی منظوری دیں۔ سنیٹ کے قوانیں میں ایسی تبدیلی کیلئے امریکی کانگریس میں واضح اکثریت کی حمایت درکار ہو گی۔ تاہم رپبلکن پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے صدر کی یہ تجویز فوری طور پر مسترد کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے آج ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ڈیوکریٹک پارٹی غیر قانونی تارکین وطن کی بلا روک ٹوک امریکہ آمد کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے اور اگر شٹ ڈاؤن کے بارے میں کوئی تصفیہ نہیں ہوتا تو رپبلکن پارٹی کو سنیٹ میں 51 فیصد ووٹوں کے ساتھ لمبی مدت کیلئے بجٹ کنظور کرا لینا چاہئیے۔ صدر کی تجویز کو سنیٹ میں رپبلکن پارٹی کے لیڈر مچ مکانل نے فوری طور پر رد کر دیا۔

امریکہ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ قانون ساز سرکاری اخراجات کے بل پر اتفاق نہ ہونے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں اور یہ سیاسی تعطل جاری ہے۔۔

سینیٹ میں اکثریتی راہنما مچ مکونل نے ہفتہ کو دیر گئے کہا کہ انھوں نے حکومت کو آٹھ فروری تک اپنے امور کی ادائیگی کے لیے اخراجات کے نئے بل پر رائے شماری کے لیے پیر ایک بجے علی الصبح کا وقت رکھا ہے۔

جمعہ کو نصف شب اس بل پر اتفاق نہ ہونے کے باعث جزوی شٹ ڈاؤن کا آغاز ہو گیا تھا جس کے بعد سوائے انتہائی ضروری سرکاری امور کے علاوہ دیگر کارکنان کو رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔

نیشنل پارک میں داخلے کے فیس وصول کرنے والا عملہ شٹ ڈاون کے بعد کام پر نہیں آیا
نیشنل پارک میں داخلے کے فیس وصول کرنے والا عملہ شٹ ڈاون کے بعد کام پر نہیں آیا

قانون سازوں کے درمیان دفاعی اخراجات اور امیگریشن کے معاملات بشمول وہ قانون سازی جس کے ذریعے ان تقریباً آٹھ لاکھ غیرقانونی تارکین وطن نوجوانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے جو بچپن میں امریکہ آئے تھے، اختلافات پائے جاتے ہیں۔

سینیٹرز نے ہفتہ کی دوپہر اخراجات کے عارضی بل پر دوبارہ بحث کا آغاز کیا تھا۔

تاہم ڈیموکریٹک سینیٹر ٹیمی بالڈون اخراجات کے ان عارضی بلوں پر یہ کہہ کر معترض تھیں کہ سب صرف وقت گزاری کے لیے ہے اور اس سے امریکی عوام کے لیے خدمات انجام نہیں دی جا سکتیں۔

ریپبلکن سینیٹر لنڈسی گراہم نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ "مجھے معلوم ہے کہ ایک بہت برا لگ رہا ہے لیکن بہت سے سینیٹرز خیرسگالی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔"

سارہ سینڈرز
سارہ سینڈرز

ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ ہکابی سینڈرز نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ "صدر اس وقت تک امیگریشن اصلاحات پر مذاکرات نہیں کریں گے جب کہ ڈیموکریٹس یہ کھیل بند نہیں کرتے اور حکومت کو دوبارہ نہیں کھولتے۔"

اسی اثنا میں وفاقی اداروں نے اپنے ہاں غیر اہم ملازمتوں پر مامور لوگوں کو رخصت پر بھیجنا شروع کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG