رسائی کے لنکس

logo-print

'افغانستان میں قیام امن کی کوششیں درست سمت میں گامزن'


(فائل فوٹو)

امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستانی عزم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم ایک درست سمت کی طرف جا رہے ہیں جس میں پاکستان کی طرف مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے جو ٹھوس نتائج کے حامل ہوں گے۔"

خلیل زاد نے یہ بات خطے کے دورے کے آخری مرحلے میں اتوار کو پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ایک ٹوئٹر بیان میں کہی ہے لیکن خلیل زاد نے ان پاکستانی اقدامات کی وضاحت نہیں کی ہے جو ان کے بقول افغان امن عمل میں پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان امن عمل کی حالیہ کوششوں میں پاکستان کا کردار نہایت اہم رہا ہے اور خلیل زاد کا بیان بھی بظاہر افغان امن عمل کی کوششوں میں اسلام آباد کے مثبت کردار کی طرف اشارہ ہے۔

افغان امور کے تجزیہ کار اور سینئر صحافی طاہر خان نے پیر کو وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول افغان طالبان پر پاکستان ایک اثر و رسوخ رکھتا ہے اور امریکہ کے خیال میں اس حوالے سے افغانوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے پاکستان کا کردار انہایت اہم ہے۔

طاہر خان نے مزید کہا کہ امریکی رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور امریکہ کے سول اور عسکری عہدیداروں کے پاکستان کے دورے اس بات کا مظہر ہیں کہ افغان تنازع کے حل کے لیے پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

خلیل زاد کے اسلام آباد کے دورے کے دوران ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت پاکستان میں ہو سکتی ہے۔

تاہم افغان امور کے ماہر اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ خلیل زاد کے دورہ اسلام آباد کے دوران طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت طے نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں پاکستان نے یہ کوشش ضرور کی تھی کہ یہ مذاکرات پاکستان میں ہو جائیں، لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی ہے۔`

دوسری طرف صحافی طاہر خان نے طالبان ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کا آئندہ دور پیر کو قطر میں ہو گا۔

امریکہ اور طالبان کی طرف سے اس ملاقات کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ "اگر امریکہ چاہے تو یہ مذاکرات قطر میں ہو سکتے ہیں اور طالبان ان کے لیے تیار ہیں اور یہاں مذاکرات پہلے بھی ہوئے ہیں اور میرے خیال میں مذاکرات ختم نہیں ہوئے اور مزید مذاکرات بھی ہوں گے۔"

رحیم اللہ کا مزید کہنا ہے کہ ابھی تک ہونے والی کوششوں میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

گزشتہ ماہ ابو ظہبی میں ہونے والی بات چیت میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا، جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی اور طالبان رہنماؤں پر عائد سفری پابندیوں کے خاتمے کی بات سامنے آئی۔ امریکہ کا اصرار تھا کہ طالبان افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کریں تاہم طالبان کابل حکومت سے براہ راست بات چیت پر تاحال آمادہ نہیں ہوئے ہیں۔

رحیم اللہ کا کہنا ہے کہ "طالبان افغان حکومت سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں ایک ایسی سفارت کاری کی ضرورت ہے کہ دونوں فریقین کے اختلاف کو کم کر کے ان کے باتیں مان لی جائیں۔"

دوسری طرف امریکہ کے ایک تحقیقاتی ادارے رینڈ کارپوریشن کی ایک رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی فورسز کو واپس بلانے کی صورت میں افغانستان میں امن و سلامتی کی صورت حال بگڑ سکتی ہے اور ایسی صورتِ حال خطے کے دیگر ملکوں کی افغانستان میں مداخلت کا باعث بنے گی۔

رپورٹ میں افغانستان مین تعینات 14 ہزار فوجیوں کی نصف تعداد کے انخلا کے نتائج کا احاطہ کیا گیا ہے۔ امریکی عہدیداروں کے حوالے سے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے 7 ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا ارداہ رکھتے ہیں۔ تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی۔

تاہم صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں امریکہ ماضی والی غلطی نہیں کرے گا اور ان کے خیال میں وہ اسی وقت افغانستان سے واپس جائے گا جب طالبان کے ساتھ معاملات طے ہو جائیں۔

طاہر خان نے مزید کہا کہ پاکستان سمیت خطے کی کسی بھی ملک کی طرف سے یہ مطالبہ نہیں آیا ہے کہ امریکہ فوری طور افغانستان سے اپنی فورسز کا انخلا کر لے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ افغان تنازع کے جلد از جلد تصفیے کا خواہاں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ کوئی معاملات طے ہونے سے پہلے انخلا کے حق میں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG