رسائی کے لنکس

امریکی کمپنی کو نشہ آور دردکش دوا پر 17 ارب ڈالر کی سزا


مختلف دوا ساز کمپینوں کی دردکش گولیاں جن میں نشہ آور جزو بھی شامل ہے۔ فائل فوٹو

امریکہ کے ایک دوا ساز ادارے جانسن اینڈ جانسن کو اوکلوہاما کے ایک جج نے پیر کے روز سزا سنائی ہے جس سے اسے ممکنہ طور پر دوا استعمال کرنے والوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے طور پر 17 ارب ڈالر ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درد دور کرنے والی دوا کی بڑے پیمانے پر تشہیر اس کا نشہ لگنے کا سبب بنی ہے۔

جانسن اینڈ جانسن پہلی دوا ساز کمپنی ہے جسے امریکہ میں درد دور کرنے والی نشہ آور دوا کے بحران سے متعلق مقدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ بحران اس وقت منظر عام پر آیا تھا کہ جب دردکش نشہ آور دوا کی زیادہ خوراک کے نتیجے میں صرف 2017 میں 70 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جانسن اینڈ جانسن کی دردکش نشہ آور دوا کو ’جادوائی اثر رکھنے والی دوا‘ کے طور پر تشہری مہم کو ’ایک ملٹی ملین ڈالر کمپنی کی جانب سے دھوکہ دہی اور برین واشنگ کرنے والی مہم‘ قرار دیا گیا تھا۔

اوکلاہاما کی ریاست اس بحران کے نتیجے میں نشے کے عادی ہونے والے افراد، ان کے خاندان اور متاثرہ کمیونٹیز کی دیکھ بھال پر اٹھنے والے اخراجات وصول کرنا چاہتی ہے۔

جانسن اینڈ جانسن کے خلاف مقدمے سے ان ہزاروں لوگوں کو ممکنہ طور پر جرم اور نقصانات پورے کرنے کے لیے مقدمے دائر کرنے کا موقع مل گیا ہے جو سن 2000 اور 2015 کے درمیان جانسن اینڈ جانسن اور دوسری دوا ساز کمپنیوں کی درد دور کرنے والی نشہ آور دوا استعمال کرتے رہے ہیں۔

اوکلاہاما ریاست کے مطابق سن 2000 سے اب تک نشہ آور دردکش دوا کی مقررہ خوراک سے زیادہ مقدار میں استعمال پر تقریباً 6000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ریاست نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اسے جانسن اینڈ جانسن سے 17 ارب ڈالر سے زیادہ دلوائے جائیں جو وہ گزشتہ 30 سال کے عرصے میں اس کی تیار کردہ نشہ آور دردکش دوا کے استعمال سے ہلاک یا متاثرہ ہونے والوں اور ان کے خاندانوں کی دیکھ بھال پر خرچ کر چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG