رسائی کے لنکس

درد کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ شدید نوعیت کا درد جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال تقربیاً ڈھائی کروڑ افراد شدید درد کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں جن میں 10 فی صد تعداد بچوں کی ہوتی ہے۔

ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارفین کی مدد سے ، جس کی ایک خوراک محض چند سینٹ میں مل جاتی ہے، ان کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

طب سے متعلق ایک جریدے’ لینسٹ میڈیکل جرنل‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں شدید درد کو عالمی سطح کے بحران کا نام دیتے ہوئے اس سے بچاؤ کے لیے سنجیدہ کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درد کی شدت سے ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق کم اور متوسط آمدنی والے ملکوں سے ہے کیونکہ انہیں مارفین میسر نہیں ہوتی۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقربیاً 299 ٹن مارفین تقسیم کی جاتی ہے جس میں سے صرف 4 فی صد دوا غریب اور متوسط آمدنی کے ملکوں کے حصے میں آتی ہے۔

امریکہ کی میامی یونیورسٹی کے اسکالر اور رپورٹ کی شریک مصنف جولیو فرینک کا کہنا ہے یہ صورت حال دو دھاری تلوار جیسی ہے کیونکہ افیون کی مدد سے تیار کی جانے والی درد کش کم قیمت دوائیں بھی کم آمدنی کے ملکوں میں آسانی سے نہیں ملتیں جب کہ امیر ملکوں میں انہیں غیر قانونی طور پر نشے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان دردکش دواؤں میں کوڈین، افیون اور بعض صورتوں میں ہیروئن بھی شامل ہوتی ہے۔

غریب ملکوں میں درد دور کرنے کی دوا مارفین حاصل کرنا نہ صرف دشوار ہوتا ہے بلکہ وہاں امیر ملکوں کے مقابلے میں اس کی قیمت کئی زیادہ بھی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مارفین کی 10 ملی گرام کی ایک گولی امیر ملکوں میں 3 سینٹ میں مل جاتی ہے جب کہ غریب ملکوں میں اس کی عمومی قیمت 16 امریکی سینٹ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مارفین کی ضرورت لگ بھگ 350 ٹن سالانہ ہے۔ جب کہ اس کی پیدوار تقریباً 300 ٹن ہے۔ پچاس ٹن پیداوار بڑھا کر اسے غریب ملکوں میں فراہم کرنے سے کروڑوں افراد کو شديد درد سے نجات دلا کر ان کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

فرینک کا کہنا ہے کہ صرف 10 لاکھ ڈالر سالانہ کے فنڈ سے شديد درد سے ہلاک ہونے والے بچوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری میں دنیا کے 172 ملکوں میں صحت سے متعلق صورت حال کا تجزیہ کیا گیا جس سے ظاہر ہوا ہے کہ 25 ملکوں میں سرے سے مارفین موجود ہی نہیں ہے جب کہ دوسری جانب 15 ملکوں میں یہ دوا کثرت سے موجود ہے لیکن وہاں اس کی ضرورت صرف ایک فی صد ہے۔

رپورٹ کے مطابق جن بیماریوں میں درد کی شدت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے ان میں ایچ آئی وی ایڈز، کینسر، دل کے امراض، بچے کی قبل از وقت پیدائش، تپ دق، پھیپھڑوں اور جگر کی بیماریاں، مخصوص قسم کے بخار، اور شديد نوعیت کے زخم شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG