رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: ٹیلی فون نگرانی محدود کرنے کے لیے قانون سازی


'یو ایس اے فریڈم ایکٹ' نامی مجوزہ قانون کے حامی اراکینِ کانگریس کا موقف ہے کہ اس کے نتیجے میں نجی زندگی کے احترام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے خفیہ ادارے 'نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے)' کی جانب سے امریکی شہریوں کے ٹیلی فون ڈیٹا کی بڑے پیمانے پر ریکارڈنگ محدود کرنے سے متعلق ایک قانون منظور کرلیا ہے۔

'یو ایس اے فریڈم ایکٹ' نامی مجوزہ قانون کی حمایت کرنے والے اراکینِ کانگریس کا موقف ہے کہ اس کے نتیجے میں نجی زندگی کے احترام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

جمعرات کو ہونے والی رائے شماری میں ایوانِ نمائندگان نے مجوزہ قانون 121 کے مقابلے میں 303 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا۔

قانون کی حمایت میں ووٹ دینے والوں میں ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ ری پبلکن ارکان بھی شامل تھے جس کے باعث اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ دونوں جماعتیں خفیہ اداروں کی جانب سے عام شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کو قاعدے قانون کا پابند کرنا چاہتی ہیں۔

'این ایس اے' کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے کیے جانے والےا نکشافات کے بعد امریکہ میں اس ضمن میں ہونے والی یہ پہلی قانون سازی ہے۔

بِل کے حامی ارکان کا موقف ہے کہ اس نوعیت کی قانون سازی کے نتیجے میں جہاں ایک جانب امریکی اداروں کی انٹیلی جنس کارروائیوں کا تحفظ ہوسکے گا وہیں نجی زندگیوں میں سرکاری اداروں کی بے جا مداخلت کا راستہ بھی روکا جاسکے گا۔

تاہم بل تجویز کرنے والے ایک قانون ساز سمیت ایوان کے کئی ارکان کا موقف ہے کہ بِل کو منظوری کے لیے ایوان میں پیش کرنے سے قبل کمیٹیوں میں بحث کے دوران مسودے میں شامل کئی اہم دفعات کو نکال دیا گیا ہے جس سے قانون کی افادیت کم ہوگئی ہے۔

قانون کے تحت ٹیلی فون کمپنیوں کو امریکی شہریوں کا ٹیلی فون ریکارڈ 18 مہینوں تک محفوظ رکھنے کا پابند کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں کو دہشت گردی سے متعلق تحقیقات کے دوران عدالتی حکم پر 'این ایس اے' کو اس ریکارڈ تک رسائی بھی دینا ہوگی۔

اس سے قبل یہ ڈیٹا 'این ایس اے' کے پاس محفوظ ہوتا تھا اور ٹیلی فون کمپنیاں تمام ڈیٹا ایجنسی کو فراہم کرنے کی پابند تھیں۔

صدر اوباما بھی اس مسودہ قانون کی حمایت کرتے رہے ہیں تاہم ماضی میں اس بِل کی حمایت کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی انجمنیں اب اس کی حمایت سے دستبردار ہوگئی ہیں۔

ان کمپنیوں اور انجمنوں کا موقف ہے کہ سخت گیر نظریات کے حامل ارکانِ کانگریس کی حمایت کے حصول کی غرض سے بِل کی کئی اہم شقیں قربان کردی گئی ہیں۔

ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد اب یہ قانون سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں امکان ہے کہ اس پر ایک بار پھر نئے سرے سے بحث و مباحثے کا آغاز ہوگا۔
XS
SM
MD
LG