رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور آئی بی اے کی جانب سے سنٹر فار انٹرپرینیوریل ڈیویلپمنٹ کا قیام


امریکہ اور آئی بی اے کی جانب سے سنٹر فار انٹرپرینیوریل ڈیویلپمنٹ کا قیام

امریکی حکومت اور کراچی میں بزنس کی تعلیم فراہم کرنے والے ایک ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے درمیان شراکت کے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت پاکستان میں نئے کاروبار قائم کرنے ، انھیں اعانت فراہم کرنے اور طا لب علموں اور نجی شعبہ کے سرمایہ کاروں کے درمیان روابط قائم کرنے کے لیے سنٹر فار انٹر پرینیوریل( سی ای ڈی ) قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

معاہدے کی رو سے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی سی ای ڈی کے عملے کی قابلیت کوبہتر بنانے کے لیے اور مستقبل میں اس مرکز کی استعداد کو بڑھانے کے لیے ابتدائی طور پر پانچ لاکھ ڈالرز (42.5 ملین روپے) آئی بی اے کو فراہم کرے گا۔

کراچی میں امریکن قونصل جنرل اسٹیفن فیکن نے تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اس عظیم شراکت کار کے پاکستان کی آئندہ نسلوں کی اہلیت بڑھانے کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کاروباری سرگرمیوں کو تحریک دینا پاکستان کی نوجوان افرادی قوت کو مناسب روز گار مہیا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

ان کا کہناتھا کہ ابتدائی طور پر فراہم کی جانے والی رقم سے آئی بی اے اپنے اسٹاف کی امریکہ میں بوسٹن یونیورسٹی کے تکنیکی ماہرین کی مدد سے تربیت کرپائے گا۔ان کے بقول معاشی ترقی کے لیے اٹھا یا جانے والا یہ قدم پاکستان کے لیے امریکی مدد کا صرف ایک رخ ہے۔ امریکی حکومت آئندہ پانچ سالوں میں یہاں توانائی ، زراعت، صحت، تعلیم اور گڈ گورننس کے شعبوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس موقع پر آئی بی اے کے ڈین ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ آئی بی اے کراچی کو اس اعزاز پر فخر ہے کہ وہ پاکستا ن کی پہلی جامعہ ہے جسے خاص طور پر ملک میں کاروباری مرکز قائم کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے گریجویٹ افراد کا نیا گروہ پیدا کرنے میں مدد ملے گی جو مستقبل میں پاکستان کی افرادی قوت کی ضروریات کو کلیدی طور پر پورا کرے گا۔

واضح رہے کہ آئی بی اے 1955 ء میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وارٹن اسکول اور بعد ازاں یونیورسٹی آف سدرن کیرولائنا کی وساطت سے امریکی حکومت کی مدد سے قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ ایشیاء بھر کے ممتاز ترین گریجویٹ بزنس پروگراموں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG