رسائی کے لنکس

logo-print

اِمی گریشن اصلاحات، کانگریس کو نظرانداز کرنے کا الزام


سینیٹر جان مکین نے مسٹر اوباما پر زور دیا ہے کہ وہ ’نئی کانگریس کو کچھ وقت دیں‘ تاکہ وہ پیش رفت دکھا سکے۔ اُنھوں نے متنبہ کیا کہ کوئی انتظامی اقدام وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ’اصل مضمرات‘ سے خالی نہیں ہوگا

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اِمی گریشن اصلاحات پر عمل درآمد کی خاطر وہ اپنےانتظامی اختیارات استعمال کرنے پر تیار ہیں، جِس سے وہ کانگریس کو نظرانداز کرتے ہوئے اقدام کرسکیں گے۔

آسٹریلیا میں اتوار کے روز جی 20 کے سربراہ اجلاس کے خاتمے پر مسٹر اوباما نے کہا کہ تارکین وطن سے متعلق قوانین کے حصول کے حوالے سے کانگریس کے چند ارکان کی دھمکیاں اُنھیں تذبذب میں نہیں ڈال سکتیں کہ ایسا کرنا کارِ سرکار کی بندش کا باعث بنےگا۔

ماسوائے اِس بات کے کہ کانگریس سال ختم ہونے سے پہلے خود ہی ایک مربوط اصلاحاتی قانون سازی منظور کرے، صدر انتظامی احکامات جاری کرنے کے اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں۔ اس قانون سازی پر عمل درآمد کی بدولت امریکہ میں رہنے والے وہ لاکھوں غیرقانونی افراد ملک بدر ہونے سے بچ جائیں گے۔

ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر، جے جانسن نے ہفتے کے روز کیلی فورنیا میں ’رونالڈ ریگن صدراتی لائبریری‘ میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوباما انتظامیہ اقدام کرنے کی ’حتمی مرحلے‘ میں داخل ہو چکی ہے۔


اُنھوں نے پناہ گزینوں سے متعلق نظام کو ’ٹوٹ پھوٹ کا شکار‘ قرار دیا۔

جانسن نے کہا کہ بدقسمتی سے ایوانِ نمائندگان کے ریپبلیکن قانون سازوں نے گذشتہ برس اِمی گریشن میں اصلاحات لانے کی قانون سازی پر کوئی پیش رفت نہیں دکھائی تھی۔


ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ نے کہا کہ صدر کے انتظامی اختیارات مربوط ہوں گے اور سرحدی سلامتی کی مضبوطی کا باعث بنیں گے۔

سینیٹر جان مکین ریپبلیکن پارٹی کے وہ رُکن ہیں جو پناہ گزینوں سے متعلق قوانین میں اصلاحات کے حامی ہیں۔

اُنھوں نے مسٹر اوباما پر زور دیا کہ وہ ’نئی کانگریس کو کچھ وقت دیں‘ تاکہ وہ پیش رفت دکھا سکے۔

اُنھوں نے متنبہ کیا کہ کوئی انتظامی اقدام وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ’اصل مضمرات‘ سے خالی نہیں ہوگا۔

مکین اریزونا کی سرحدی ریاست کے سینیٹر ہیں، جہاں میکسیکو کی طرف سے متعدد پناہ گزیں ملک میں داخل ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG