رسائی کے لنکس

logo-print

اوباما کی وسطی امریکی ممالک کے صدور سے ملاقات


وسطی امریکہ کے رہنماؤں سے مسٹر اوباما کی ملاقات میں ہونے والے فیصلوں میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ ہجرت کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کی جائے کہ وہ شمال کی جانب رخ کریں تاکہ امریکہ کو انہیں بے دخل کرنے کی ضرورت نا پڑے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے وسطی امریکی ملکوں کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوبی امریکہ میں پناہ کی غرض سے ہزاروں کی تعداد میں بے آسرا بچوں کے اس طرف جانے کے عمل کو روکنے کے لیے تعاون کریں۔

ایلسلواڈور، گوئٹے مالا اور ہونڈارس کے صدور سے وائٹ ہاوس میں ہونے والی ملاقات میں صدر اوباما کا کہنا تھا کہ یہ احساس میں کمی کی بات نہیں لیکن یہ ذمہ داری کی بات ہے کہ امیگریشن کے قوانین پر عمل درآمد کیا جائے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے امریکہ ایسے کئی تارکین وطن کو واپس بھیج دیتا ہے۔

انہوں نے رہنماؤں سے کہا کہ وہ اپنے حصے کا کام کریں۔ ’’ہم سب کو اس بات کا ادراک ہے کہ اس مسئلے کا حل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان تارکین وطن میں کچھ پناہ گزینوں کا درجہ حاصل کرنے کے حق دار ہوں گے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کچھ ہی ہے۔

امریکی قوانین کے تحت سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا لازمی ہے جو کہ اس بات کا تعین کرتی ہے کہ آیا کوئی شخص امریکہ میں رہ سکتا ہے یا نہیں۔

تارکین وطن امریکہ میں مستقل قیام کی اجازت حاصل کرنے کے لیے میکسیکو کا خطرناک سفر کرتے ہیں اور اسی وجہ سے انسانی اسمگلنگ کو تقویت ملتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار مائیکل بارون کا کہنا تھا کہ ہزاروں کی تعداد میں بے آسرا بچوں کا اپنے ملک چھوڑ کر آنا صدر اوباما کے لیے اصل مسئلہ ہے۔

’’ایک جانب تو وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے امریکہ سے واپس بھیجنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا لیکن یہ کوئی محفوظ سرحد نہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ اسے پار کرکے آکر یہاں رہ رہے ہیں۔‘‘

لاطینی برادری کے کارکن جن کا اوباما کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے میں اہم کردار رہا ہے، نے تارکین وطن کی بے دخلی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وسطی امریکہ کے رہنماؤں سے مسٹر اوباما کی ملاقات میں ہونے والے فیصلوں میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ ہجرت کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کی جائے کہ وہ شمال کی جانب رخ کریں تاکہ امریکہ کو انہیں بے دخل کرنے کی ضرورت نا پڑے۔

وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق ابتدائی اقدامات میں ہونڈارس میں کچھ نوجوانوں کے کوائف کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا وہ امریکہ میں مہاجرین کا درجہ حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سرحد کی طرف خطرناک سفر کرنے سے پہلے ان نوجوانوں کا انٹرویو کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ ’’سوچ یہ ہے کہ انہیں خطرناک سفر پر روانہ ہونے سے روکا جائے۔ ہم میزبان حکومت کے تعاون سے ایک نظام قائم کریں گے کہ وہ خطرناک سفر پر روانہ ہوئے بغیر ہی وہیں درخواست دے سکیں۔‘‘

اس منصوبے کو حزب اختلاف کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے جو کہ امیگریشن کے قواعد کو سخت کرنے کے لیے قانون سازی پر زور دے رہے ہیں۔

اس مجوزہ قانون میں سرحد پر نیشنل گارڈز تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی پناہ لینے والوں کی بے دخلی کے عمل کو تیز کرنے کی غرض سے مزید ججوں کی تقرری شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG