رسائی کے لنکس

logo-print

غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق انتظامی حکم نامہ، تکرار


وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش ارنیسٹ نے بتایا یے کہ امید ہے کہ اپیل پر فیصلہ انتظامیہ کے حق میں آئے گا، کیونکہ ’صدر کے اقدام کی قانونی بنیاد مضبوط ہے، جس میں تارکین وطن کے غیر مستحکم نظام میں اصلاحات لانے کا اعلان کیا گیا ہے‘

غیرقانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر، امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ قانونی اور سیاسی تکرار کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ایک جج کی جانب سے مسٹر اوباما کے انتظامی حکم نامے کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف ’ضمانت‘ حاصل کی جائے گی، جس کی رو سے ممکن ہوگا کہ متعدد پناہ گزینوں کو کسی قانونی اقدام کی زد میں آنے سے بچایا جاسکے۔

ضمانت کے حصول کی صورت میں انتظامی اقدامات کو جاری رکھا جاسکے گا، جب تک کہ اس معاملے پر کسی اعلیٰ عدالت سے رجوع کیا جائے۔


وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش ارنیسٹ نے بتایا یے کہ امید ہے کہ اپیل پر فیصلہ انتظامیہ کے حق میں آئے گا، کیونکہ ’صدر کے اقدام کی قانونی بنیاد مضبوط ہے، جس میں تارکین وطن کے غیر مستحکم نظام میں اصلاحات لانے کا اعلان کیا گیا ہے‘۔

یہ انتظامی اقدام کانگریس کی رضامندی حاصل کیے بغیر کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ریپبلیکنز معاملے کو عدالت میں لے گئے۔

منگل کو، وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ محکمہٴانصاف کے اِن احکامات کو مانا جائے گا۔ تاہم، ٹیکساس کے جج کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کی جائے گی، جس کے ذریعے عارضی طور پر صدر کو 50 لاکھ تک غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدری سے تحفظ دینے کے اقدام سے روگا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے میں سامنے آیا جب امریکی کانگریس میں ملک کی ہوم لینڈ سکیورٹی ایجنسی کے لیے رقوم مختص کرنے کے متنازع معاملے پر تکرار جاری تھا۔ یہ ادارہ تارکین وطن سے متعلق ضابطوں پر نگرانی کے فرائض انجام دیتا ہے اور سرحد کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس محکمے کی فنڈنگ اگلے ہفتے کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔

XS
SM
MD
LG