رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتی عملے پر پابندیاں جمعہ سے لاگو


امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چودھری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کے سفارتی عملے پر پابندیوں کا اطلاق کل یعنی جمعہ 11 مئی سے ہو جائے گا۔

پاکستانی سفیر نے یہ بات وی او اے اردو کے نمائندے امان اظہر سے خصوصی گفتگو کے دوران کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں دو طرفہ تعلقات کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گی لیکن بحرحال یہ امریکی حکومت کا فیصلہ ہے۔

انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان میں امریکی سفارت کار بھی کچھ علاقوں میں نہیں جاتے جس کی وجہ سیکیورٹی ہے کیونکہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر ہے۔

پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ اور پاکستان میں امریکی سفارت خانے کے درمیان ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے جس سے یہ امید ہے کہ اس مسئلے کے حل میں مدد ملے گی۔

البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب کوئی ایک ملک اس طرح کی پابندیاں لگاتا ہے تو اس سے دوسرے ملک کو بھی ویسے ہی اقدامات اٹھانے کے لیے دباؤ بڑھتا ہے جو دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

پابندیوں کے مطابق پاکستانی سفارتی اہلکار سفارتخانے سے 25 میل کے فاصلے کے اندر رہیں گے اور اگر اُنہیں 25 میل سے باہر جانا ہو تو امریکی محکمہ خارجہ سے خصوصی اجازت حاصل کرنا لازمی ہو گا۔

وی او اے اردو کے ذرائع کے مطابق پاکستانی حکومت کو مارچ کے آخر میں امریکی انتظامیہ نے یہ عندیہ دے دیا تھا کہ امرکہ میں پاکستانی سفارت کاروں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی جائے گی۔

پاکستان میں امریکی سفارت کار جو سفارت خانے اور کونسل خانوں میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں انہیں ان شہروں سے باہر جانے کے لیے پاکستانی حکومت سے پیشگی اجازت لینی پڑتی ہے۔ 16 اپریل کو وی او اے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی نائب معاون وزیرِ خارجہ برائے سیاسی امور تھامس شینن نے کہا تھا کہ یہ پابندیاں پاکستانی حکومت کے اس اقدام کے جواب میں لگائی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG