رسائی کے لنکس

امریکہ، بھارت مشترکہ اعلامیہ ’’خطے میں استحکام کے لیے معاون نہیں‘‘


پاکستانی دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’کشیدگی اور عدم استحکام کے کلیدی ذرائع پر توجہ دیئے بغیر جاری کردہ یہ مشترکہ اعلامیہ پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بڑھاوا دیتا ہے‘‘

پاکستان نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہٴ امریکہ کے دوران واشنگٹن کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ بیان کو جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے مقصد کے منافی قرار دیا ہے، جب کہ مبصرین بھی دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ پیش رفت کو خطے میں امن کی کوششوں کے لیے غیر سودمند قرار دے رہے ہیں۔

رواں ہفتے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں پاکستان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ملک میں موجود ممبئی، پٹھانکوٹ اور سرحد پار دیگر حملوں میں ملوث عسکریت پسند عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لائے، جب کہ امریکہ نے پاکستان میں مقیم ایک بھارت مخالف باغی کشمیری راہنما سید صلاح الدین کو دہشت گردوں کی عالمی فہرست میں شامل کیا۔

بدھ کو پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ کشیدگی اور عدم استحکام کے کلیدی ذرائع پر توجہ دیئے بغیر جاری کردہ یہ مشترکہ اعلامیہ پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بڑھاوا دیتا ہے۔

پاکستان بھارت میں دہشت گردی کرنے والوں کی حمایت کے الزام کو مسترد کرنے کے علاوہ یہ کہتا آیا ہے کہ وہ اپنے ہاں موجود تمام عسکریت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

سید صلاح الدین (فائل فوٹو)
سید صلاح الدین (فائل فوٹو)

دفتر خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر آواز بلند کرتے ہوئے کشمیریوں کی سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دہشت گردی اور ان کی حمایت کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جانا اس کے لیے ناقابل قبول ہے۔

گو کہ امریکہ باہمی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے عمل پر زور دیتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کے اپنے موقف کو دہراتا آیا ہے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کا تازہ اقدام مبصرین کے خیال میں امریکہ کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان کھڑے کر سکتا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس نے بدھ کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں اس خیال کا اظہار کیا کہ ’’امریکہ کا بھارت کی طرف جھکاؤ خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘‘۔

اُن کے بقول، "ایک جانبداری کی بو آتی ہے۔ اگر امریکہ پاکستان اور بھارت کے معاملات میں اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جنگ میں غیر جانبدار نہ رہے تو خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کا اپنا کردار مشکوک ہو جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے بھارت کی طرف جو جھکاؤ اوباما انتظامیہ کے دور سے چلا آ رہا تھا اس میں تبدیلی نہیں آئی اور اس سے علاقے کے استحکام اور سلامتی کو خطرہ ہے۔"

بھارتی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ کی طرف سے اس ملک کے لیے جدید آلات حرب اور ٹیکنالوجی کی فروخت پر بھی پاکستان نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نفیس ذکریا (فائل فوٹو)
ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نفیس ذکریا (فائل فوٹو)

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی خرید و فروخت جنوبی ایشیا کے خطے میں عسکری قوت کے عدم توازن کو واضح اور اسٹریٹیجک استحکام کو کمزور کرتی ہے۔

بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر طلعت عائشہ وزارت کے نزدیک تعلقات میں عدم توازن کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہوگا۔

اُن کے الفاظ میں، "ہم چاہتے ہیں کہ متوازن تعلقات ہوں۔۔۔ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ سے تعلقات صحیح رہیں، پڑوسیوں سے بھی درست رہیں لیکن جس طرح سے چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں اس سے میرا خیال ہے نہ امریکہ کے لیے یہ اچھا ہے نہ بھارت کے لیے نہ اس خطے کے لیے اور پاکستان کے لیے تو خراب ہے ہی۔"

اسی دوران منگل کو بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے موقر بھارتی اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کے پاس سرجیکل اسٹرائیک سے کہیں زیادہ مؤثر ذرائع موجود ہیں۔

پاکستان کی طرف سے تاحال اس بیان پر تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ لیکن، گزشتہ ستمبر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھارت کی طرف سے کیے گئے سرجیکل اسٹرائیک کے دورے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ جغرافیائی سرحد کی کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کا سنگین جواب دیا جائے گا۔

ڈاکٹر طلعت وزارت کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی ایٹمی قوتیں ہیں اور اگر تناؤ میں کمی کے لیے ناگزیر اقدام نہ کیے گئے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG