رسائی کے لنکس

امریکہ کی پاکستان کو ماحولیاتی سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت


فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ نے پاکستان کو آب و ہوا کے مسائل پر ورچوئل سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کرلیا ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے ماحولیات جان کیری نے پاکستان کے وزیر ماحولیات کو خط لکھ کر اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

پاکستانی وزارت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے نمائندہ خصوصی جان کیری نے پاکستانی وزیر ماحولیات ملک امین اسلم کو خط لکھا ہے۔

ان کے بقول مذکورہ خط میں ورچوئل سربراہی اجلاس میں آب و ہوا پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ہے۔

وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے امریکی نمائندہ خصوصی کا خط بھی ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا ہے۔

جان کیری کے ملک امین اسلم کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ آپ 22 اپریل کو آب و ہوا پر ہونے والے اجلاس میں دیگر وزرا اور رہنماؤں کے ساتھ شامل ہوں۔

انہوں نے تحریر کیا ہے کہ سربراہی اجلاس آب و ہوا کے بحران سے نمٹنے کی مشترکہ کوششوں کو تقویت دینے کے لیے دنیا کی بڑی معیشتوں اور دیگر شراکت داروں کو اکھٹا کرے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل آب و ہوا کی تبدیلی پر ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں مدعو کیے جانے والے 40 ممالک کے سربراہان کی فہرست سامنے آئی تھی جس میں پاکستان شامل نہیں تھا۔

البتہ فہرست میں پاکستان کے پڑوسی ممالک بھارت، چین، بنگلہ دیش سمیت بھوٹان، کینیا اور دیگر ممالک شامل تھے۔

امریکی اجلاس کی فہرست میں پاکستان کا نام شامل نہ ہونے پر سوشل میڈیا سمیت مختلف حلقوں میں کافی بحث کی گئی تھی جس کے بعد پاکستان کے وزیرِاعظم نے بھی ردِعمل کا اظہار کیا تھا۔

عمران خان نے کہا تھا کہ وہ امریکہ میں آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق ہونے والی کانفرنس میں مدعو نہ کیے جانے پر ہونے والے شور شرابے پر حیران ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ مذکورہ اجلاس میں پاکستان کو مدعو نہ کیے جانے پر بلاجواز اعتراضات سن کر حیران ہیں۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کا محور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنا ہے اور حکومتی پالیسی آئندہ نسلوں کو صاف ستھرا اور سرسبز پاکستان دینے کے عزم کے عین مطابق ہے۔

تاہم کانفرنس میں پہلے پاکستان کو مدعو نہ کرنے پر حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے اسے حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو، بقول ان کے، کبھی اتنی سبکی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG