رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر بالواسطہ بات چیت 'تعمیری' قرار


ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس اراغچی ویانا کے ایک ہوٹل میں جوہری معاہدے پر بات چیت کیلئے جا رہے ہیں۔ مارچ 6, 2021.

امریکی اور ایران کے سفارتی عہدیداروں نے ویانا میں جاری جوہری معاہدے ہر ہونے والی بات چیت کو "تعمیری" قرار دیا ہے۔ایران کے جوہری پروگرام پر 2015 میں طے پانے والے اس معاہدے کی بحالی کے لئے امریکہ اور ایران کے علاوہ، پانچ ممالک بات چیت میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس بات چیت کا اہتمام یورپی یونین نے کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ فی الوقت دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست بات چیت کا امکان نہیں ہے، تاہم امریکہ نے براہ ارست سفارتکاری کیلئے اپنے دروازے بند نہیں کئے۔

نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ آسٹریا کےدارالحکومت ویانا میں جاری ملاقاتیں اس لحاظ سے مثبت ہیں کہ ان سے یہ تعین ہو سکے گا کہ معاہدے کی تمام شقوں کا پوری طرح سے احترام کرنے کیلئے ایران کیا چاہتا ہے، جس کے جواب میں اس پر عائد پابندیاں نرم کی جائیں۔

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، اور ایران پر مزید معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

اس کے ردِ عمل میں، ایران نے بھی پابندیاں اٹھائے جانے کیلئے معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، یورینیم کی افزودگی میں اضافہ شروع کر دیا تھا۔

مبصرین کے مطابق دوںوں فریقوں نے معاہدے کی شقوں کا پوری طرح سے احترام کرنے کے اشارے دئے ہیں، لیکن اس سلسلے میں کوئی بھی فریق پہلا قدم نہیں اٹھانا چاہتا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس اراغچی نے منگل کے روز ملاقاتوں کو تعمیری قرار دیا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں ملاقاتوں کو "تازہ باب" قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریق سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اس معاہدے کو مشترکہ اور جامع لائحہ عمل یا جوائنٹ کمپری ہنسو پلان آف ایکشن کا نام دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG