رسائی کے لنکس

logo-print

ایران میں یرغمال بننے والے امریکیوں کے لیے ’تسلی بخش‘ تصفیہ


’نیو یارک ٹائمز‘ نے جمعرات کو خبر دی ہے کہ گذشتہ ہفتے کانگریس نے اخراجات کی جن بھاری رقوم کی منظوری دی، اُس میں سابق 53 یرغمالیوں یا اُن کے ورثہ میں سے ہر ایک کے لیے 44 لاکھ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے

چھتیس برس بعد، وہ امریکی جنھیں ایران نے 444 دِنوں تک یرغمال بنایا تھا، اُنھیں بالآخر جھیلی گئی اذیت کا تصفیہ نظر آنے لگا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ نے جمعرات کو خبر دی ہے کہ گذشتہ ہفتے کانگریس نے اخراجات کی جن بھاری رقوم کی منظوری دی، اُس میں سابق 53 یرغمالیوں یا اُن کے ورثہ میں سے ہر ایک کے لیے 44 لاکھ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔

اِس میں سے کچھ معاوضہ اُن دیگر یرغمالیوں کے لیے بھی ہوگا جن پر ریاستی سرپرستی میں حملے ہوئے۔

تھامس لینکفرڈ نے، جو سنہ 1999 سے یرغمالی گروپ کے سرکردہ اٹارنی تھے، وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’رقم کا مختص کیا جانا ایک طویل اور شاندار جدوجہد کا ثمر ہے‘۔
اس جدوجہد کے ایک حصے کا آغاز چار نومبر، 1979ء کو اُس وقت ہوا جب قدامت پسند ایرانی طالب علموں نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر کنٹرول حاصل کیا، اور امریکیوں کو یرغمال بنایا جن میں سولین سفارت کار اور فوجی اہل کار شامل تھے۔

امریکیوں کو 14 ماہ تک قید رکھا گیا، جن میں سے کچھ کو تفتیش، اذیت، قید تنہائی اور نقلی پھانسیوں کے صدموں سے گزارا گیا۔

اس کا دوسرا دور اُس وقت شروع ہوا جب کچھ سمجھوتے طے ہوئے اور 20 جنوری 1981ء میں یرغمالیوں کو آخر کار رہائی نصیب ہوئی، جس کے لیے بعد میں اُنھیں پتا چلا کہ ایران سے نقصان کی تلافی کی گنجائش نہیں تھی۔ سنہ 1996 کے ایک قانون کے مطابق، چند متاثرین نے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا، جس سے یوں لگا کہ ایک سلسلے کا آغاز ہوا ہے۔ یرغمالیوں کے قانونی ماہرین نے امریکی سرکار پر دعویٰ کیا اور عدالت عظمیٰ تک گئے، جس نے مئی 2012ء میں اُن کی استدعا کو مسترد کیا۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی خبر کے مطابق، اِس مقدمے میں اِس سال اُس وقت جان پڑی جب ایک عدالتی فیصلہ سامنے آیا جس میں پیرس میں قائم بینک، ’بی این پی پیرس‘ نے ایران، سوڈان اور کیوبا پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی پر 9 ارب ڈالر کا جرمانہ لگایا۔ اِس میں سے، اندازاً ایک ارب ڈالر دہشت گردی کے متاثرین کے فنڈ میں جائیں گے، جب کہ مزید قانونی چارہ جوئی سے اضافی وسائل میسر آسکتے ہیں۔


XS
SM
MD
LG