رسائی کے لنکس

ایران جو کر رہا ہے امریکہ اسے دیکھ رہا ہے: ہیلی


سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک امریکی سفیر نکی ہیلی

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو سراہا جب کہ روس نے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے دیتے ہوئے امریکہ پر تنقید کی۔

امریکہ نے جمعہ کو سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جس میں ایران میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان مظاہروں میں اب تک 22 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد گرفتار ہو چکے ہیں۔

ملک بھر میں گزشتہ ایک ہفتے سے حکومت مخالف اور حکومت کے حامیوں کے مظاہرے جاری ہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ "آپ جو کر رہے ہیں امریکہ اسے دیکھ رہا ہے۔" انھوں نے مظاہروں کو "بنیادی انسانی حقوق کا برجستہ اظہار" اور "ایسے بہادر لوگوں کی طرف سے طاقتور جذبے کا اظہار قرار دیا جو جابر حکومت سے اس قدر تنگ آ چکے ہیں کہ مظاہروں میں اپنی زندگیاں داو پر لگا رہے ہیں۔"

ہیلی نے ایران کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی عوام کی آواز دبانا بند کرے اپنے شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی بحال کرے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی برادری کو حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کرنی چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ان مظاہرین کے حق میں ٹوئٹس کر چکے ہیں۔

لیکن روس اور ایران سمیت امریکہ کے اس موقف کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کا بین الاقوامی برادری سے کچھ لینا دینا نہیں۔

ایران کے سفیر غلام علی خسرو نے سلامتی کونسل کی دعوت پر اس اجلاس میں شرکت کی تھی اور سب سے آخر میں اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ یمن اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے ہوتے ہوئے ایران سے متعلق اس اجلاس کو طلب کرنا سلامتی کونسل کی "ساکھ متاثر" کرنے کے مترادف ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے اجلاس طلب کرنے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ایران کے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG