رسائی کے لنکس

logo-print

فضائی کارروائی تیز کی جائے، بھاری اسلحہ دیا جائے:عبادی


ہیگل سے ملاقات میں، العبادی نے کہا ہے کہ امریکی قیادت والے اتحاد کو فضائی کارروائیوں میں تیزی لانی چاہیئے،اور بھاری اسلحے کی اضافی مدد کرنے سے، زمین پر موجود عراقی فوجیوں کی پیش قدمی کو بڑھاوا ملے گا، جو داعش کے خلاف لڑ رہے ہیں

امریکی وزیر دفاع چَک ہیگل عراق کے غیر اعلانیہ دورے پر ہیں۔ ایسے میں، داعش کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی غرض سے، عراق کے وزیر اعظم نے امریکہ سےمزید فضائی کارروائیاں کرنے کی درخواست کی ہے۔

ہیگل کے ساتھ ملاقات کے آغاز ہی پر، وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ امریکی قیادت والے اتحاد کی فضائی کارروائیوں میں تیزی لانے اور بھاری اسلحے کی اضافی مدد سے، زمین پر تعنات عراقی فوجیوں کی پیش قدمی کو بڑھاوا ملے گا، جو اِس سخت گیر گروہ کے خلاف نبردآزما ہیں۔

ہیگل کے موجودہ دورے سے چار ماہ قبل، امریکہ نے عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا۔ بعدازاں، فضائی کارروائی ہمسایہ شام کے دوسرے محاذ کی طرف پھیل گئی۔

بغداد آمد پر، ہیگل نے امریکی اور آسٹریلیائی فوجوں کے ایک گروپ کو بتایا کہ بالآخر اس بات کا انحصار عراق پر ہوگا کہ وہ اپنا دفاع اور اپنی مدد کیسےکرتا ہے۔

بقول اُن کے،’جیسا کہ افغانستان کا معاملہ ہے، یہ اُن کا اپنا ملک ہے، اُنھیں آگے بڑھنا ہوگا، وہی لوگ ہیں جنھیں حاصل ہونے والے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنی پڑے گی۔ ہم مدد دے سکتے ہیں، تربیت فراہم کر سکتے ہیں، اعانت دے سکتے ہیں، ہم مشورہ دے سکتے ہیں۔۔۔اور ہم یہ سب کر رہے ہیں۔ اور، ہم اُن کی حمایت جاری رکھیں گے۔ لیکن، ایسی حکومت جس میں تمام طبقوں کی نمائندگی ہو کو یقینی بنانا ہوگا، اور اعتماد کی بحالی اُن کے مستقبل کے لیے لازمی ہوگی۔

پیر کے روز، وزیر دفاع نے کہا کہ زیرِ تسلط علاقہ واگزار کرانے کے سلسلے میں عراقی افواج نے ’نئی پیش رفت‘ حاصل کی ہے، جس پر رواں سال کے اوائل میں عراق کے شمالی اور مغربی خطوں میں داعش کے شدت پسند گروہ نے قبضہ جما لیا تھا۔

تربیت اور مشاورت کی فراہمی کے لیے، صدر براک اوباما نے عراق میں 3100 تک فوجی بھجوانے کی منظوری دی ہوئی ہے۔

امریکی قیادت والے اتحاد کے کمانڈر، لیفٹیننٹ جنرل جیمز ٹیری نے پیر کے روز کہا ہے کہ اتحاد کے ساجھے داروں نے بھی 1500 فوجی مشیر روانہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
اُنھوں نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کا شدت پسند گروہ جوابی کارروائیاں کر رہا ہے اور عراق کے اُس رقبے پر قدم جمائے رکھنے کی کوشش میں ہے جو اُس کے زیر تسلط ہیں۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ یہ شدت پسند ابھی تک حملے بھی کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG