رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: دولت اسلامیہ کے خلاف ’’کامیاب‘‘ کارروائیاں


فائل

امریکی فوجی ترجمان نے یہ تازہ ترین اعداد بدھ کے روز کابل میں اخباری کانفرنس میں پیش کئے۔ اُنھوں نے مشرق وسطیٰ میں جڑیں رکھنے والے اس دہشت گرد گروپ کے خلاف کامیابی پر افغان ساتھیوں کو سراہا

افغان سلامتی افواج نے، جنھیں امریکی فضائی مدد حاصل ہے، گذشتہ سال افغانستان میں داعش کے خلاف ’’کامیاب‘‘ کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں شدت پسندوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً 700 رہ گئی ہے۔

امریکی فوجی ترجمان، برگیڈیئر جنرل چارلس کلولینڈ نے یہ تازہ تجزیہ بدھ کے روز کابل میں اخباری کانفرنس میں پیش کیا۔

اُنھوں نے مشرق وسطیٰ میں جڑیں رکھنے والے اس دہشت گرد گروپ کے خلاف کامیابی پر افغان ساتھیوں کو سراہا۔

کلیولینڈ نے کہا ہے کہ ایک سال قبل خاص طور پر مشرقی صوبہٴ ننگرہار میں، جس کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں، داعش کے 2000 سے 3000 کے لگ بھگ ارکان تھے۔


ترجمان نے مزید کہا کہ ’’وہ علاقے کے تقریباً 11 اضلاع پر قابض تھے، جو جنوبی ننگرہار کے عوام کے لیے ہر قسم کی تکالیف اور دباؤ کا باعث بنے ہوئے تھے۔

کلیولینڈ کے الفاظ میں ’’ہم سمجھتے ہیں کہ اِن کارروائیوں کے بعد اب شاید داعش کے تقریباً 700 ارکان باقی رہ گئے ہیں، جو اب بھی جنوبی ننگرہار کے تین سے کم اضلاع تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں‘‘۔

XS
SM
MD
LG