رسائی کے لنکس

داعش کے خلاف بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور


امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن دہشت گردی کے خلاف کانفرنس کا افتتاح کررہے ہیں۔ 22 مارچ 2017

امریکہ وزیر خارجہ ٹلرسن کا کہنا تھا کہ داعش کو صرف میدان جنگ ہی میں نہیں بلکہ اس سے باہر اور دنیا بھر میں شکست دینے کی کوشش پر بہت زیادہ اتفاق رائے ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن نے داعش یااسلامک اسٹیٹ کو شکست دینے کے بہترین طریقوں پر گفتگو کے لیے اس ہفتے واشنگٹن میں اپنے غیر ملکی ہم منصبوں سے ملاقاتوں کے ایک سلسلے کا انعقاد کیا۔ بدھ کے روزاسلامک اسٹیٹ پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کے بعد انہوں نے اس دہشت گرد گروپ کے خلاف ایک بین الاقوامی اتحاد کے کچھ ارکان سے انفرادی طور پر ملاقات کی۔

جمعرات کے روز امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر سے مذاکرات کیے ۔کانفرنس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ نے جس کانفرنس کی میزبانی کی تھی وہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس سے مہذب دنیا کی جانب سے اس بدی کا مقابلہ کرنے اور اسے مناسب طریقے سے شکست دینے کے اس کے بھر پور عزم کو تقویت ملی۔ ہم مزید موثر بننے کے لیے اس اتحاد کی توسیع کے طریقوں پر ہمیشہ غور کر تے رہے ہیں۔ سعودی عرب شام میں اسلامک اسٹیٹ کو شکست دینے سے متعلق اتحاد کا ایک بانی رکن تھا۔ اور شام پر حملوں کے لئے سعودی فضائیہ کی پروازوں کی تعداد امریکہ کے بعد دوسری سب سے بڑی تعدادتھی۔

امریکہ وزیر خارجہ ٹلرسن نے جس کانفرنس کی میزبانی کی اس میں انہوں نے داعش کی مکمل شکست کے لیے زور دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کو صرف میدان جنگ ہی میں نہیں بلکہ اس سے باہر اور دنیا بھر میں شکست دینے کی کوشش پر بہت زیادہ اتفاق رائے ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ دہشت گردی سے لڑنے کی بین الاقوامی کوشش بہت اہم ہے کیوں کہ عسکریت پسند جب ایک مقام پر شکست کھاتے ہیں تو وہ وہاں سے کسی اور کمزور مقام پر چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ارکان دنیا میں دوسرے مقامات تک پھیلانے کی کوشش کر نے والے ہیں، جیسے لیبیا ، جیسے أفغانستان اور ایسے ہی دوسرے مقامات ۔ آپ کو یہ چیز ذہن میں رکھنی ہو گی ۔ آپ کو ان کے خلاف آن لائن بھی بھر پور طریقے سے کام کرنا ہو گا ، کیوں کہ وہ جنگجو ؤں کی آن لائن بھرتی کی کوشش بھی کریں گے۔

مسٹر ٹونر نے کہا کہ داعش مقامی دہشت گرد گروپس کے ارکان کو بھی بھرتی کرتی ہے۔ مثلاً پاکستان اور أفغانستان میں طالبان اور لیبیا میں ایسے ہی چھوٹے گروپس ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ أفغانستان سے دہشت گردوں کو پاکستان میں پناہ لینے سے روکنے کے لیے مزید کوشش کرے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے بدھ کے روز أفغان وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جس میں اس بارے میں بات چیت ہوئی ۔ سیکیورٹی کےاس قسم کے مسائل پر اور اس بارے میں ، أفغانستان اور پاکستان کے حوالے سے مزید تعاون کی ضرورت ہے کہ آپ دہشت گردوں کو أفغانستان میں محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنے سے کیسے روکتے ہیں۔

مسٹر ٹونر نے امریکی وزیر خارجہ کے ا س پیغام کو تقویت دی کہ امریکہ کی ترجیح یہ ہے کہ داعش کو خشکی پر شکست دی جائے اور اس کے بعد اس گروپ کے مدد گار سلسلے کو توڑا جا ئے مثلاً اس کے مالی وسائل ، بھرتی کی کوشش اور آن لائن رابطے اور پیغامات۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG