رسائی کے لنکس

logo-print

یروشلم کے معاملے پر امریکہ اقوام متحدہ میں تنہا رہ گیا


سویڈن کے سفیر

سویڈن کے سفیر، الوف اسکوگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’’یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’یروشلم کا حتمی حل تلاش کیا جانا باقی ہے۔ اسی لیے، اسے دونوں فریق کے مابین مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے‘‘

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا جمعے کے روز ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں امریکہ کے طویل مدتی اتحادیوں نے امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کے فیصلے کی حمایت سے منہ موڑ لیا۔

سویڈن کے سفیر، الوف اسکوگ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’’یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’یروشلم کا حتمی حل تلاش کیا جانا باقی ہے۔ اسی لیے، اسے دونوں فریق کے مابین مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے‘‘۔

سکونگ نے توجہ مبذول کرائی کہ 1947ء میں، جس سے ایک برس بعد اسرائیل کی ریاست وجود میں آئی، اقوام متحدہ نے یروشلم کو ایک ’’الگ اکائی‘‘ کا خصوصی درجہ تفویض کیا، جو یہودیوں، مسلمانوں اور مسیحیوں کا مقدس شہر ہے۔

سال 1980کا فیصلہ

اب تک، تمام ملک 1980ء کے سلامتی کونسل کے فیصلے کو مانتے آئے ہیں؛ جو یروشلم کی حیثیت بدلنے کی کسی کوشش کو کالعدم قرار دیتے رہے ہیں؛ اور تمام ملکوں سے کہا ہے کہ وہ اس شہر سے اپنے سفارتی مشن واپس بلائیں۔

برطانیہ کے سفیر میتھیو رکرافٹ نے کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے بعد، بالآخر یروشلم اسرائیل اور فلسطینی ریاست کا مشترکہ دارالحکومت ہوگا۔

میتھیو رکرافٹ نے کہا کہ ’’اِس لیے، معاملےکی حیثیت کے حتمی سمجھوتے سے پہلے، ہم یروشلم کی جانب سفارت خانے کی منتقلی اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے سے متفق نہیں ہیں۔ ایسے فیصلے خطے میں امن کے مستقبل کے لیے معاون نہیں بن سکتے، جس مقصد کے حصول کے ہم سلامتی کونسل کے تمام ارکان پابند ہیں‘‘۔

سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے نصف سے زیادہ نے کھلے اجلاس کی درخواست دے رکھی تھی، جب کہ دیگر ریاستوں کے وفود نے اپنے چیمبر بند کرلیے، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ عالمی سطح پر یروشلم کی حیثیت کیا اہمیت رکھتی ہے۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے معاملات کی حتمی حیثیت طے کرنے میں معاون نہیں بنتے؛ جس سےسارے امن عمل کو خطرہ لاحق ہوگا۔ اُنھوں نے اپنی تشویش کا بھی اظہار کیا کہ انتہاپسند اور قدامت پسند اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس بنا پر پہلے ہی سے کشیدگی کے شکار خطے میں تناؤ بڑھے گا۔

فرانس کے ایلچی، فرانسواں دیترے نے کہا کہ ’’اس سےسیاسی تنازع کے خطرات میں اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی خدشات کا حامل ہے، جو ناقابل حل مذہبی تنازع کی انتہائی صورت اختیار کر سکتا ہے‘‘۔
عبد الفتح السیسی کی قیادت میں مصر کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ لیکن، اس معاملے پر دونوں کا مؤقف متضاد ہے۔

مصر کے ایلچی، امر ابو العطا نے کہا کہ ’’یہ ایک خطرناک مثال ہے جس کی وضاحت ضروری ہے۔ اس قسم کا یکطرفہ فیصلہ بین الاقوامی قانونی حیثیت کا انحراف ہے؛ اس لیے، یروشلم کے شہر پر ایسی کوئی قانونی حیثیت لاگو نہیں ہوتی، چونکہ یہ ایک مقبوضہ شہر ہے‘‘۔

اسرائیل نے 1967ء کی لڑائی میں مشرقی یروشلم کو ضم کر دیا تھا۔

اجلاس کے بعد، یورپی کونسل کے چار ملکوں، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور سویڈن نے جرمنی کے ساتھ مل کر اخباری نمائندوں کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں امریکہ کی شاذ و نادر مزمت کی گئی؛ جس میں اُنھوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی مؤقف سے نااتفاقی کا اظہار کیا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہے اور امن کے حصول میں معاون ثابت نہیں ہوگا۔

جمعے کے روز سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران، امریکی سفیر، نکی ہیلی مؤقف پر پختہ ڈٹی رہیں۔ اسرائیل کے ایک پکے اتحادی کے طور پر، اُنھوں نے سب سے پہلے اقوام متحدہ کو ہدفِ تنقید بنایا۔

ہیلی نے کہا کہ ’’کئی برسوں سے، اقوام متحدہ شرمناک طور پر اسرائیل کی جانب مخاصمت کا اولین مرکز بنا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے مشرق وسطیٰ امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے، بجائے اس کے کہ اس میں کوئی پیش رفت حاصل ہو۔ اس کام میں، ہم اُس کے فریق نہیں بنیں گے‘‘۔

اُنھوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کے صدر کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’امریکی عوام کی خواہش ہے‘‘؛ اور محض زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کا معاملہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG