رسائی کے لنکس

logo-print

اسرائیل کو ریکارڈ فوجی امداد کی فراہمی، سمجھوتے پر دستخط ہوگئے


مفاہمت کی یادداشت میں 2019ء سے 2028ء تک اسرائیل کو ریکارڈ 38 ارب ڈالر کی رقوم فراہم کی جائیں گی؛ یعنی سالانہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 3.3 ارب ڈالر کی امداد دی جائے گی؛ جب کہ اسرائیلی دفاعی مزائیل نظام کے لیےسالانہ 50 کروڑ ڈالر اضافی مہیہ کیے جائیں گے

امریکہ اور اسرائیل نے بدھ کے روز ایک سنگ میل نوعیت کے 10 برس کے فوجی امداد کے سمجھوتے پر دستخط کیے، ایسے میں جب دونوں سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امریکی قانون سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ کانگریس یروشلم کو دی جانے والی اصل امدادی رقم کا تعین کرے گی۔

مفاہمت کی یادداشت میں 2019ء سے 2028ء تک اسرائیل کو ریکارڈ 38 ارب ڈالر کی رقوم فراہم کی جائیں گی؛ یعنی سالانہ 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 3.3 ارب ڈالر کی امداد دی جائے گی؛ جب کہ اسرائیلی دفاعی مزائیل نظام کے لیےسالانہ 50 کروڑ ڈالر اضافی مہیہ کیے جائیں گے۔

باضابطہ دستخط کی تقریب محکمہ خارجہ میں منعقد ہوئی جس میں وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کی مشیر، سوزن رائس نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ’فولادی نوعیت کے تعلقات‘ کی نشاندہی کی۔
رائس کے بقول، ’’یہ (مفاہمتی یادداشت) ہماری موجودہ رقوم میں کافی اضافے پر مشتمل ہے جس سے اسرائیل کو وہ حمایت میسر آئےگی جو اس کے دفاع کے لیے ضروری ہے، اُس کے لیے، اور اُس کی فوجی برتری کی حفاظت کے لیے ضروری ہے‘‘۔

اسرائیل کی نمائندگی قومی سلامتی کے قائم مقام مشیر، جیکب نائیجل نے کی، جنھوں نے کہا کہ امدادی پیکیج ’’دونوں ملکوں کی ضروریات اور صلاحیتوں کے درمیان توازن کو درست کرتا ہے‘‘، اور کسی خطرے کی صورت میں ’’اسرائیل کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ بہتر طور پر اپنا دفاع کر سکے‘‘۔

نائیجل نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے ’’ایک زوردار میزائل دفاعی نظام‘‘ کے لیے رقوم میسر آئیں گی، تاکہ خطے میں خطرات کا مقابلہ کیا جاسکے۔

نائیجل نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت کے ذریعے ’’ایک شاندار میزائل دفاعی نظام‘‘ کے لیے رقوم میسر آئیں گی، تاکہ خطے میں خطرات کا مقابلہ کیا جاسکے۔

امدادی پیکیج امریکہ، اسرائیل کے مابین کئی ماہ تک جاری رہنے والے نازک مذاکرات کا نتیجہ ہے، اور چند امریکی قانون سازوں کی جانب سے شد و مد سے کی جانے والی کوششوں کا ثمر ہیں۔ اسرائیل نے اِس بات سے اتفاق کیا کہ وہ امریکی ساختہ ہتھیار خریدے گا اور اس بات پر رضامند ہوا کہ وہ اضافی فنڈ کے لیے کانگریس میں کوششیں نہیں کرے گا۔

ساؤتھ کیرولینا سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹر، لِنڈسی گراہم نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’یہ پردے کے پیچھے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس میں رقوم مختص کرنے کا عمل شامل ہے۔ اس تگ و دو کے نتیجے میں کانگریس نے وہ کچھ نہیں کیا، جس وجہ سے میں اسے میں اسے تسلیم نہیں کرتا‘‘۔

XS
SM
MD
LG