رسائی کے لنکس

logo-print

جنگی جرائم ٹربیونل کے وکلا پر امریکی پابندیوں کے خلاف حکم امتناع جاری


بیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف کی عمارت۔ (فائل فوٹو)

نیویارک کے ایک فیڈرل جج نے پیر کے روز ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے انسانی حقوق سے متعلق ان وکلا پر پابندیوں کا اقدام روک دیا ہے جو جنگی جرائم سے متعلق عالمی ٹربیونل میں ایک مقدمے کی پیروی کر رہے تھے۔

یو ایس ڈسٹرکٹ جج کیتھرین پولک فیلا نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان چار وکلا کے خلاف فوجداری یا دیگر جرمانے عائد کیے جانے کے اقدام کے خلاف ابتدائی حکم امتناع جاری کیا ہے۔

ان وکلا پر گزشتہ سال جون میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے پابندیاں لگائی تھیں۔

اس صدارتی حکم میں ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ملازمین اور ان کی مدد کرنے والے کسی بھی شخص پر اقتصادی اور سفری پابندیاں لگانے کی اجازت دی گئی تھی جو سن 2003 سے 2014 کے دوران افغانستان میں امریکی فوجیوں سے متعلق جنگی جرائم کے مقدمے کی پیروی میں شامل ہوں۔

جج نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ بظاہر مدعلیہان یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے سے آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزی ہونے سے انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

محکمۂ انصاف کے ترجمان نے عدالتی فیصلے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ اپیل نیویارک میں قائم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ ' اوپن سوسائٹی فار جسٹس انیشیٹو' اور پروفیسرز کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔

امریکہ انتظامیہ کے عہدے داروں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر الزام لگایا تھا کہ وہ امریکہ کی خودمختاری میں مداخلت کر رہی ہے اور روس کو یہ اجازت دے رہی ہیں کہ وہ اسے ماسکو کے مفادات کے لیے استعمال کر سکے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف نے صدر ٹرمپ کے حکم کو بین الاقوامی عدالت انصاف اوور قانون کی حکمرانی پر حملہ قرار دیا تھا، جب کہ یورپی یونین نے بھی اس کی مخالفت کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG