رسائی کے لنکس

ممبئی حملے: ڈیوڈ ہیڈلی کے مزید انکشافات


ممبئی حملے: ڈیوڈ ہیڈلی کے مزید انکشافات

دہشت گردی کے حوالے سے شکاگو میں جاری ایک اہم مقدمے کی کارروائی میں استغاثہ کے اہم ترین گواہ نے کہا ہے کہ وہ اس بات سے بالکل لا علم ہے کہ اُس ایک شخص کے سِوا جس سے اس کا رابطہ تھا، پاکستانی کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں کسی کو ممبئی پر حملوں کے منصوبے کا پتہ تھا یا نہیں۔

پاکستانی نژاد کینیڈین شہری تہوّر حسین رانا کے خلاف اس مقدمے میں گواہی دینے والے ان کے دوست ڈیوڈ ہیڈلی خود ممبئی حملوں میں مدد اور ڈنمارک کے جس اخبار نے پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کیے تھے، اس پر حملے کی منصوبہ بندی کا بھی اعتراف کر چکے ہیں۔ موجودہ مقدمے میں وہ انہی جرائم کے سلسلے میں رانا کے خلاف گواہ ہیں۔

گزشتہ چند روز کی کارروائی، اور اس سے قبل تفتیش کے مراحل میں امریکی اور بھارتی اہلکاروں سے تعاون کرتے ہوئے ہیڈلی نے جو معلومات فراہم کی تھیں ان کے مطابق میجر اقبال نامی ایک شخص، جن کے بارے میں ہیڈلی کا کہنا تھا کہ وہ آئی ایس آئی کے لیے کام کرتے تھے، انھیں ممبئی حملوں کی تیّاری کے سلسلے میں ہدایات دیتے تھے۔

ممبئی حملے: ڈیوڈ ہیڈلی کے مزید انکشافات
ممبئی حملے: ڈیوڈ ہیڈلی کے مزید انکشافات

لیکن جمعرات کے روز عدالت میں ہیڈلی نے اعتراف کیا کہ وہ اس بات سے بالکل لا علم ہے کہ میجر اقبال کے سوا آئی ایس آئی میں کسی کو بھی ممبئی حملوں کا علم تھا یا نہیں۔ اس سے پہلے ہیڈلی یہ اعتراف کر چکا ہے کہ میجر اقبال نے اُسے کبھی کوئی شناختی کارڈ نہیں دکھایا تھا۔

پاکستانی حکومت ہیڈلی کے بیانات کی تردید کرنے کے علاوہ یہ بھی کہہ چکی ہے کہ میجر اقبال کون ہیں اور کس کے لیے کام کرتے ہیں، یہ کوئی نہیں جانتا۔

ہیڈلی کے مطابق اس نے بارہا ممبئی جا کر تاج ہوٹل سمیت ان تمام مقامات کے بارے میں معلومات، ویڈیو اور تصاویر جمع کیں تھیں جنھیں بعد میں ممبئی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ لوگوں کی نظر میں آئے بغیر اس قسم کی معلومات جمع کرنے، اور عمومی طور پر عسکری اور جاسوسی کی تربیت، انھیں پہلے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ نے اپنے کیمپوں اور بعد میں آئی ایس آئی نے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے ائرپورٹ کے قریب سفید رنگ کے ایک دو منزلہ مکان میں دی۔

ہیڈلی عدالت میں شمالی وزیرستان جا کر القاعدہ سے منسلک الیاس کاشمیری سے ملاقات، اور ان سے مل کر ڈنمارک کے ایک اخبار پر حملے کی منصوبہ بندی کا بھی اعتراف کر چکا ہے۔ یہ وہی اخبار ہے جس نے پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کیے تھے اور مسلم دنیا میں ایک تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور ہلاکت کے بعد سے پاکستان کی افواج اور خصوصاً خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور ان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں شکاگو میں جاری موجودہ مقدمے کی اہمیت بڑھ گئی ہے کیونکہ اس میں ممبئی حملوں میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کی طرف اشارے ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں یہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ لشکر طیبہ جیسی کالعدم اور دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم پاکستان میں نہ صرف موجود ہے بلکہ تربیتی کیمپ چلا رہی ہے اور اس کے کارکن لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں سرگرم ہیں۔

یہ معلومات زیادہ تر استغاثہ کے گواہ ہیڈلی کے توسط سے سامنے آرہی ہیں۔ البتہ خود ہیڈلی کی ساکھ کو وکلاء صفائی چیلنج کر رہے ہیں اور عدالت میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنے کا ماہر ہے۔

اس مقدمے کی اگلی پیشی منگل کو ہوگی۔

XS
SM
MD
LG