رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور ویتنام نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں: جان کیری


چار دہائیاں قبل امریکہ اور ویتنام کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل جنگ کے خاتمے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ویتنام جنگ کے زخموں کو مندمل ہونے میں وقت لگا ہے اور یہ دونوں ممالک کے لیے آسان نہیں تھا۔

یہ بات انہوں نے جمعہ کو ہنوئی میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے معمول پر آنے کی 20 ویں سالگرہ کی موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہی۔

سول سوسائٹی کے ایک فورم میں انہوں نے کہا کہ تعلقات کی بحالی کو 20 سال کا عرصہ لگا۔

چار دہائیاں قبل امریکہ اور ویتنام کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل جنگ کے خاتمے کے بعد منقطع ہو گئے تھے۔

حالیہ برسوں میں امریکہ اور ویتنام نے مضبوط معاشی روابط قائم کیے ہیں۔ گزشتہ سال ان کے درمیان ہونے والی تجارت کا حجم 36 ارب ڈالر تھا۔

مضبوط تجارتی تعلقات کے باوجود امریکہ ویتنام کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔

جون میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ انسانی حقوق کی رپورٹ میں ویتنام میں ’’شہریوں کے سیاسی حقوق پر کڑی پابندی‘‘، پولیس کے شہریوں پر حملوں اور اپنی مرضی سے گرفتاریوں اور حراست کے مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔

کیری نے بھی اپنے دورے کے دوران انسانی حقوق میں بہتری لانے پر زور دیا۔

امریکہ اور ویتنام ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ نامی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا حصہ ہیں جس میں 12 ممالک شامل ہیں۔

تجارت کے علاوہ بحیرہ جنوبی چین میں سکیورٹی کا مسئلہ امریکہ اور ویتنام کے درمیان مذاکرات کا اہم موضوع تھا۔ 2013ء میں ہنوئی کے اپنے آخری دورے میں کیری نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ ویتنام کو کوسٹ گارڈ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے پانچ تیز رفتار گشتی جہاز فراہم کرے گا۔

کیری مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے پانچ ممالک کا دورہ کر رہے ہیں جن میں ویتنام ان کا آخری پڑاؤ ہے۔

اس سے قبل وہ مصر، قطر، سنگاپور اور ملائشیا کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ایران کی جوہری معاہدے سے متعلق تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی اور جنوب مشرقی ایشیائی خطے میں تجارت اور بحیرہ جنوبی چین میں سکیورٹی کے مسائل پر بات چیت کی۔

XS
SM
MD
LG