رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں شدت پسندوں پر امریکہ اور عرب اتحادیوں کے فضائی حملے


امریکی حکام شام کی حکومت کو متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف کسی بھی امریکی فضائی کارروائی میں مداخلت نہ کرے۔

امریکہ اور اس کے عرب اتحادیوں نے سنی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف شام میں کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

منگل کو امریکی سنٹرل کمانڈ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ شام کے مشرق میں چار مختلف علاقوں بشمول شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ رقہ میں 14 فضائی حملے کیے گئے جس میں دولت اسلامیہ کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

بیان کے مطابق حملوں میں بحرین، قطر، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات نے بھی شدت پسندوں کے مرکزی ٹھکانوں اور معاشی اہداف کو نشانہ بنایا۔

لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم نے خبر دی کہ فضائی کارروائیوں میں متعدد عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

قبل ازیں پینٹاگون کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے ایک بیان میں ان کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں کے خلاف شام میں بمبار لڑاکا طیارے اور ٹوماہاک میزائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔"

شام کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اقوام متحدہ میں اس کے سفیر کو ان حملوں کے بارے میں پیشگی مطلع کر دیا تھا۔ امریکی حکام شام کی حکومت کو متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ شدت پسندوں کے خلاف کسی بھی امریکی فضائی کارروائی میں مداخلت نہ کرے۔

پینٹاگون کے ایک اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جیف پول نے بھی پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی تھی لیکن انھوں نے یہ کہہ کر اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا کہ یہ آپریشن ابھی جاری ہے۔

"ان حملوں کا فیصلہ امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے کمانڈر انچیف ( صدر اوباما) کی اجازت سے آج (پیر) صبح کیا تھا۔ ہم مناسب وقت پر بعد میں اس کی مزید تفصیلات بتائیں گے۔"

امریکہ اس سے پہلے عراق میں بھی دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم نے عراق اور شام کے مختلف حصوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔

صدر براک اوباما اس دہشت گرد تنظیم کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے تباہ و برباد کرنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG