رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: قانون سازوں کی بجٹ اختلافات دور کرنے کی کوششیں


جزوی شٹ ڈاؤن کے اختتام پر قانون ساز اُن مذاکرات کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں جن کا مقصد ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے مابین بجٹ کے معاملے پر شدید اختلافات کو دور کرنا ہے۔

امریکہ میں حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن کے اختتام پر قانون ساز اُن مذاکرات کی جانب پیش رفت کر رہے ہیں جن کا مقصد ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے مابین بجٹ کے معاملے پر شدید اختلافات کو دور کرنا ہے۔

کانگریس حکومت کے حجم اور وفاقی ٹیکسوں کی سطح جیسے معاملات پر بات چیت کے لیے گروپ تشکیل دے چکی ہے۔ بات چیت کا عمل اس بل کے تحت کیا جا رہا ہے جس کی رواں ہفتے منظوری کے بعد شٹ ڈاؤن کا خاتمہ ہوا۔

گروپ نے جمعرات کو اپنے کام کا آغاز کیا اور یہ 13 دسمبر تک کوئی مجوزہ بجٹ منصوبہ پیش کرے گا۔

امریکی صدر براک اوباما نے بھی جمعرات کو کہا کہ 16 روزہ جزوی شٹ ڈاؤن کی وجہ بننے والے تعطل نے امریکی معیشت کو ’’صریحاً غیر ضروری نقصان پہنچایا‘‘۔

کانگریس نے بدھ کو دیر گئے متعلقہ بل کی منظوری دی اور مسٹر اوباما نے اس پر فوراً دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی جس کے بعد ہزاروں وفاقی ملازمین کام پر لوٹ آئے۔

اس بل کے تحت حکومت کم از کم 15 جنوری تک تمام سرگرمیاں جاری رکھ سکے گی جب کہ قرض کی حد میں بھی اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ کم از کم 7 فروری تک نادہندہ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں۔

اقتصادی اُمور سے متعلق ایجنسی ’’اسٹینڈرڈ اینڈ پوئرز‘‘ کے مطابق شٹ ڈاؤن کی وجہ سے امریکی معیشت کو 24 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا جب کہ قرض سے متعلق درجہ بندی کرنے والے ادارے ’’فیچ‘‘ نے متنبہ کیا کہ وہ امریکی حکومت کے قرض کا درجہ ٹریپل اے (AAA) سے کھٹانے پر غور کر رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG