رسائی کے لنکس

امریکہ: حکومتی قرضوں کی حد بڑھانے پر قانون سازوں میں معاہدہ


فائل فوٹو

امریکی سینیٹ کے رہنماؤں نے حکومت کے قرض لینے کے اختیار کو دسمبر کے اوائل تک بڑھانے کے لیے جمعرات کو ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، تاکہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا جا سکے جس میں اب دو ہفتوں سے بھی کم مدت باقی رہ گئی ہے۔

سینیٹ کے اکثریت کے رہنما چک شومر نے ری پبلکن لیڈر مچ میک کونل کے ساتھ مذاکرات کے بعد سینیٹ فلور پر معاہدے کا اعلان کیا۔

انہوں نے بدھ کے روز ڈیموکریٹس کو تجویز دی تھی کہ ملک کے موجودہ طویل المدتی 28 اعشاریہ 4 ٹریلین قرضوں کی حد میں ایک غیر معینہ رقم کا اضافہ کر کے اسے دسمبر تک بڑھا دیا جائے، تاکہ اس دوران حکومتی اخراجات کو پورا کیا جا سکے اور اس مسئلے کے حل کے لیے مزید وقت مل جائے۔

شومر نے کہا کہ وہ قرض کی حد میں توسیع کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اس کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ نیوز آؤٹ لیٹس کی رپورٹ کے مطابق، نئے قرض لینے کا اختیار 3 دسمبر تک بڑھایا جائے گا اور حکومت کو مزید 480 بلین ڈالر قرض لینے کی اجازت دی جائے گی۔

حالیہ دنوں میں قرضوں کی حد میں اضافے پر کانگریس میں تنازعہ شدت اختیار کر گیا تھا۔ سیکرٹری خزانہ جینیٹ یلن نے کہا تھا کہ حکومت کے پاس اپنے تمام بلوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز 18 اکتوبر تک ختم ہو جائیں گے، اس صورت حال سے بچنے کے لیے قرضے لینے کی مقررہ حد میں اضافہ کیا جائے تاکہ حکومت اپنے اخراجات پورے کر سکے۔

فنڈز نہ ملنے کی صورت میں پنشن، سرکاری ملازموں کی تنخواہوں اور سرکاری کانٹریکٹرز کی ادائیگیوں میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ لیکن سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ قرضوں کی حد نہ بڑھنے سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت ڈیفالٹ ہو جائے گی جس سے دنیا کو اچھا تاثر نہیں جائے گا۔

ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کو قرضوں کی حد بڑھانے میں مدد کے لیے اپنا ووٹ نہیں دیں گے۔

ڈٰیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے والے ایک آزاد رکن سینیٹر برنی سینڈرز نے قرض کی حد میں تعطل کو دور کرنے کے سلسلے میں میک کونل کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ری پبلیکز نے ایک اچھا کام کیا ہے اور اب ہمارے پاس اس مسئلے کے مستقل حل تک پہنچنے کے لیے کچھ مہینے ہیں۔

اس کے لیے ایک پارلیمانی طریقہ مصالحت کا بھی ہے جس کے تحت کسی قانون کو سینیٹ میں 60 کے بجائے سادہ اکثریت سے منظور کرنے کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ چونکہ ڈیموکریٹس کے پاس سادہ اکثریت موجود ہے، اس لیے مفاہمت کے تحت، ڈیموکریٹس کو کسی ریپبلکن ووٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

دوسری جانب ریپبلکن جولائی سے کہہ رہے ہیں کہ وہ قرض کی حد بڑھانے کے لیے ووٹ نہیں دیں گے۔

ری پبلیکن سینیٹر لیڈر میک کونل، فائل فوٹو
ری پبلیکن سینیٹر لیڈر میک کونل، فائل فوٹو

بائیڈن نے بدھ کے روز امریکہ کے کچھ اعلیٰ کاروباری رہنماؤں اور بینکنگ ایگزیکٹوز سے ملاقات کی تاکہ کانگریس کی جانب سے حکومت کے قرض لینے کے اختیار میں اضافے سے متعلق بات چیت کی جا سکے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیفالٹ کے نتیجے میں لاکھوں ملازمتیں خطرے میں پڑ جائیں گی اور امریکہ کساد بازاری میں چلا جائے گا۔ اس سے ڈالر کی ساکھ بھی متاثر ہو گی اور امریکہ کی معاشی طاقت کو دیرپا نقصان پہنچے گا، کیونکہ دنیا امریکہ کی کرنسی پر انحصار کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG