رسائی کے لنکس

شام: اتحادیوں کے حملے میں 23 عام شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

داعش کے خلاف 2014ء میں امریکہ کی سربراہی میں بننے والا کثیر الملکی اتحاد 2014ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک عراق اور شام میں 28 ہزار سے زائد فضائی حملے کرچکا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے ایک غیر سرکاری ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے ایک فضائی حملے میں کم از کم 23 عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم ادارے 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق حملہ بدھ کو شام کے مشرقی صوبے دیر الزور کے ایک گاؤں میں کیا گیا جو شدت پسند تنظیم داعش کے زیرِ قبضہ علاقے میں واقع ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جو ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے اور چھ خواتین بھی شامل ہیں۔

حملے کا نشانہ بننے والے علاقے میں امریکہ کے حمایتِ یافتہ شامی باغی داعش کے زیرِ قبضہ چند آخری علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جن کی مدد کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے رہتے ہیں۔

سیرین آبزرویٹری کے مطابق مغربی ملکوں کے حمایت یافتہ باغیوں نے حملے کانشانہ بننے والے گاؤں کے ساتھ واقع ایک دوسرے گاؤں کا کنٹرول منگل کو ہی داعش کے جنگجووں سے چھینا تھا۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی اتحاد صرف فوجی اہداف کو ہی نشانہ بناتا ہے لیکن ترجمان کے بقول فضائی حملے میں شہری ہلاکتوں کے الزام کی تحقیقات کی جائیں گی۔

داعش کے خلاف 2014ء میں امریکہ کی سربراہی میں بننے والا کثیر الملکی اتحاد 2014ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک عراق اور شام میں 28 ہزار سے زائد فضائی حملے کرچکا ہے۔

اتحاد کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف داعش کے ٹھکانے تھے لیکن ان میں نادانستہ طور پر اب تک 800 عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار جمع کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے 'ایئر وارز' کا دعویٰ ہے کہ مغربی ملکوں کے حکام کی جانب سے بیان کردہ یہ تعداد درست نہیں اور اب تک ان حملوں میں چھ ہزار معصوم جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG