رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں اتحادی افواج کی فضائی کارروائیوں میں’553 ہلاکیتں ہوئیں‘


امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے 22 ستمبر سے اب تک شام میں 200 سے زائد فضائی حملے کیے۔

شام میں سرگرم انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق امریکہ کی زیر قیادت فضائی کارروائیوں میں ایک ماہ کے دوران 553 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے بیشتر کا تعلق ’دولت اسلامیہ‘ اور القاعدہ سے منسلک نصریٰ فرنٹ سے ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیئرین آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس‘ نامی گروپ نے جمعرات کو کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں دولت اسلامیہ کے 464 جنگجو جب کہ 32 شہری شامل ہیں۔

یہ گروپ شام میں تشدد میں ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار اکٹھے کرتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ہلاک ہونے والے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ لیکن کیوں کہ جن علاقوں میں فضائی کارروائی کی جا رہی ہے اُن میں سے بعض تک رسائی نا ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد معلوم نہیں ہو سکتی۔

امریکہ اور اس کی اتحادی افواج نے 22 ستمبر سے اب تک شام میں 200 سے زائد فضائی حملے کیے۔

اتحادی افواج نے عراق میں 300 فضائی کارروائیاں کیں۔ عراق اور شام میں ’دولت اسلامیہ‘ کے جنگجوؤں نے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے جن کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔

دریں اثنا امریکی وزارت دفاع نے کہا کہ مال بردار جہازوں کے ذریعے مشرقی شام میں کردوں کے لیے گرائے جانے والا سامان ممکنہ طور پر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں میں جا سکتا ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان سٹیو وران نے بدھ کو بتایا تھا کہ کوبانی میں مال بردار جہازوں کے مدد سے 28 بڑے بیگ گرائے گئے تھے جن میں سے 26 کردوں نے اکٹھے کر لیے تھے جب کہ ایک کو فضائی کارروائی کر کے تباہ کر دیا گیا لیکن ایک ممکن طور پر جنگجوؤں نے اُٹھا لیا۔

دولت اسلامیہ کی حامی گروپ کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو کے مطابق نقاب پوش جنگجو ہینڈ گرنیڈ، اسلحہ اور راکٹ لانچرز کا جائزہ لیتے ہوئے خوش نظر آ رہے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق یہ اسلحہ کسی طور پر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو کرد ملیشیا پر برتری نہیں دیتا۔

اُدھر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے مطابق یہ غلط ہے کہ کرد ملیشیا کے لیے امریکہ فضا سے سامان گرا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG