رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی لابی کامیاب


Tobacco warning

امریکہ کی دو کلیدی تمباکو کمپنیوں کی طرف سے شدید لابی کے نتیجے میں پاکستانی حکومت سگریٹ کے پیکٹوں پر صحت کے بارے میں وارننگ کم کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔

فلپ مارس انٹرنیشنل اور برٹش امریکن ٹوبیکو نے گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستانی حکومت کے ساتھ مسلسل لابی کی کہ پاکستان میں بکنے والے سگریٹ کے پیکٹ پر موجود وارننگ کا سائز کم کر دیا جائے جس میں جلی حروف میں لکھا جاتا ہے کہ تمباکو نوشی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے اور اس سے منہ کا کینسر ہو سکتا ہے۔

پاکستانی حکومت کا تخمینہ ہے کہ تمباکو نوشی سے ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق مذکورہ امریکی تمباکو کمپنیوں نے اس سلسلے میں پاکستانی وزیر اعظم کو خط لکھے اور اُن سے ملاقات کی جس میں صحت کے بارے میں وارننگ کے سائز کو کم کرنے اور سگریٹوں کی غیر قانونی تجارت کو روکنے کے بارے سمجھوتہ طے پایا۔

محکمہ صحت کے دو حاضر سروس اور ایک ریٹائرڈ اعلیٰ اہلکاروں نے تصدیق کی کہ پاکستان صحت سے متعلق وارننگ پیکٹ کے 85 فیصد حصے سے کم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ حکومت نے امریکی کمپنیوں کی طرف سے لابی کے بعد تمباکو کی صنعت کے بارے میں اپنے مؤقف میں نرمی ظاہر کی ہے کیونکہ یہ شعبہ ٹیکسوں کی شکل میں ملک کے خزانے میں خطیر رقم جمع کراتا ہے۔ تمباکو کی صنعت نے مالی سال 2016-17 کے دوران 55 کرورڑ ڈالر کا ایکسائز ٹیکس ادا کیا۔

نیا طے پانے والا سمجھوتا یکم جون سے نافذالعمل ہو گا۔ اس کے مطابق صحت کے بارے میں وارننگ پیکٹ کے 50 فیصد حصے پر ہو گی۔

2014 میں منعقد ہونے والے پاکستانی حکومت کے ایک سروےمیں بتایا گیا ہے کہ 15 سال سے زائد عمر کی آبادی کا 19 فیصد یعنی تقریباٍ ً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں جن میں سے ایک کروڑ 56 لاکھ افراد عادی سگریٹ پینے والے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG