رسائی کے لنکس

logo-print

مکین دماغ کے سرطان کا علاج جاری نہیں رکھیں گے: اہل خانہ


فائل

امریکی سینیٹر جان مکین کے اہل خانہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ دماغ کے سرطان کی بیماری کا مزید علاج نہیں کرائیں گے۔

یہ اعلان کرتے ہوئے، اہل خانہ نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ گذشتہ سال کینسر کی تشخیص کا سبھی کو علم ہوا، اب مکین کو ’’مزید زندہ رہنے کی امید نہیں رہی‘‘۔

لیکن، بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جب بیماری گھر کر جائے اور آدمی عمر رسیدہ ہو، تو نتیجہ عیاں ہے‘‘۔

اہل خانہ نے مکین کی ’’مثالی قوت ارادہ‘‘ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اب اُنہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ علاج ترک کر دیں‘‘۔

جولائی 2017ء سے اب تک وہ جان لیوا ’گلوبلاسٹوما‘ کا علاج کرا رہے تھے۔

سال 2000ء اور 2008ء میں وہ دو بار ناکام صدارتی امیدوار رہے، مکین واشنگٹن کے بے انتہا معروف قانون ساز ہیں۔

اُن کا ری پبلیکن پارٹی سے تعلق ہے، لیکن اُنہوں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے علاوہ اپنی جماعت کے ارکان کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی، امیگریشن اصلاحات اور انتخابی رقوم اکٹھی کرنے کی اصلاح جیسے معاملات پر گراں قدر کام کرتے رہے ہیں۔

گذشتہ سال سرجری کے بعد مکین فیصلہ کُن ووٹ دینے کے لیے ڈرامائی طور پر واشنگٹن پہنچے؛ اور اُنہوں نے اپنی ہی جماعت کے خلاف ووٹ دیا، جس مجوزہ بِل کا مقصد سابق امریکی صدر براک اوباما کے صحت عامہ کی دیکھ بھال کے قانون کو معطل کرنا تھا۔

ویتنام لڑائی کے دوران مکین پانچ سال تک جنگی قیدی رہے۔ سینیٹر کے طور پر وہ متعدد بار ویتنام گئے اور اُن کی کوشش رہی کہ ویتنام میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی باقیات امریکہ واپس لائی جائیں۔

دسمبر سے اب تک مکین کا قیام ایرزونا کے اپنے گھر تک محدود رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG