رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور میکسیکو نئے تجارتی معاہدے پر متفق


صدر ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں کے سامنے اوول آفس میں اپنے میکسیکن ہم منصب سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے نئے معاہدے پر اتفاقِ رائے کا اعلان کیا۔

نئے معاہدے پر اتفاقِ رائے کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ 'نافٹا' سے چھٹکارا پالیں گےکیوں کہ 'نافٹا' ان کے بقول امریکہ کو کئی برسوں سے سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔

امریکہ اور میکسیکو نے ایک نئے تجارتی معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے جو شمالی امریکہ میں آزاد تجارت کے معاہدے (نافٹا) کی جگہ لے گا۔

نئے معاہدے کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کیا جسے 'امریکہ میکسیکو ٹریڈ ایگریمنٹ' کا نام دیا گیا ہے۔

'نافٹا' امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے مابین آزادانہ تجارت کا معاہدہ ہے جو 1994ء میں اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے دورِ حکومت میں طے پایا تھا۔

'نافٹا' میں شامل تینوں ممالک کے مابین تجارت کا سالانہ حجم 10 کھرب ڈالر سے زائد ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ اس معاہدے کے کڑے ناقد ہیں اور انہوں نے گزشتہ سال اقتدار میں آنے کے بعد کینیڈا اور میکسیکو کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے اس معاہدے میں وہ تبدیلیاں نہ کیں جن کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں تو امریکہ اس معاہدے سے نکل جائے گا۔

صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ 'نافٹا' کی وجہ سے امریکہ میں بڑی صنعتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی صنعتیں یا ان کے بیشتر شعبے کم لاگت کی وجہ سے میکسیکو منتقل ہوچکے ہیں جس سے امریکہ میں مزدور طبقے میں بے روزگاری بڑھی ہے۔

'نافٹا' میں اصلاحات پر مذاکرات کا سلسلہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہے جس کی وجہ سے کینیڈا اور میکسیکو کو معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں امریکہ اور میکسیکو کے درمیان نئے معاہدے پر اتفاقِ رائے کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ 'نافٹا' سے چھٹکارا پالیں گےکیوں کہ 'نافٹا' ان کے بقول امریکہ کو کئی برسوں سے سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے معاہدے کے اعلان سے قبل صحافیوں کے سامنے اپنے دفتر سے ٹیلی فون پر میکسیکو کے صدر اینرک پینا نیتو سے بھی گفتگو کی۔

اس گفتگو کے موقع پر میکسیکو کے وزیرِ خارجہ اور وزیرِ تجارت بھی اوول آفس میں موجود تھے۔

صدر ٹرمپ نے میکسیکن صدر سے کہا کہ وہ جلد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں نئے تجارتی معاہدے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

نئے معاہدے میں کینیڈا شامل نہیں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور میکسیکو کے درمیان معاہدے پر اتفاقِ رائے کے اعلان کا ایک مقصد کینیڈا کی حکومت پر اس معاہدے میں شامل ہونے کے لیے دباؤ بڑھانا بھی ہوسکتا ہے۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں دونوں رہنماؤں نے مجوزہ معاہدے پر تبادلۂ خیال کیا۔

اطلاعات ہیں کہ مجوزہ معاہدے پر بات چیت کے لیے کینیڈا کی وزیرِ خارجہ کرسٹیا فری لینڈ منگل کو واشنگٹن ڈی سی کا دورہ کریں گی۔

نئے معاہدے کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ لیکن امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ اگر کینیڈا کے ساتھ نئے معاہدے پر بات چیت رواں ہفتے کے اختتام تک کسی نتیجے پر نہ پہنچی تو صدر ٹرمپ امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع کردیں گے کہ ان کی حکومت اور میکسیکو کے درمیان معاہدے پر اتفاق ہوگیا۔

تاہم امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ کینیڈا پر معاہدے میں شامل ہونے کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا رہے گا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نئے معاہدے پر 90 روز میں دستخط کردیں گے جس سے قبل کانگریس کو معاہدے کی توثیق کرنا ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG