رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر مزید امریکی حملے


تازہ حملوں کے بعد عراق میں 'دولتِ اسلامیہ' کے ٹھکانوں پر گزشتہ ایک ماہ سے جاری امریکی فضائی حملوں کی تعداد 131 ہوگئی ہے۔

امریکی فوج نے عراق میں شدت پسند تنظیم 'دولتِ اسلامیہ' کے ٹھکانوں اور گاڑیوں پر مزید کئی فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکی فوج کی 'سینٹرل کمان' کی جانب سے جمعے کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کےمطابق تازہ حملے موصل ڈیم اور عراقی کردستان کے دارالحکومت اِربل کے دفاع پر مامور عراقی اور کرد فورسز کی مدد کے لیے کیے گئے ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات اور جمعے کو ڈرون اور بمبار طیاروں کے ذریعے کیے جانے والے ان حملوں میں 'دولتِ اسلامیہ' کی چوکیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

'سینٹرل کمان' کے بیان کے مطابق امریکی طیاروں نے شدت پسندوں کی ایک چوکی، تین گاڑیوں اور تین توپوں بم برسا کر تباہ کردیا۔

تازہ حملوں کے بعد عراق میں 'دولتِ اسلامیہ' کے ٹھکانوں پر گزشتہ ایک ماہ سے جاری امریکی فضائی حملوں کی تعداد 131 ہوگئی ہے۔

اس سے قبل عراق کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فضائی حملوں میں 'دولتِ اسلامیہ' کے تین اہم رہنما ہلاک ہوگئے ہیں۔

وزارتِ دفاع کے حکام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ امریکی طیاروں نے یہ حملہ جمعرات کو شمال مغربی صوبے موصل کے شہر تل عفر میں کیا تھا جو شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

عراقی حکام کے مطابق مرنے والوںمیں بم بنانے کا ایک ماہر، تل عفر میں شدت پسندوں کا مقامی کمانڈر اور ابو حجر الصوفی نامی شدت پسند شامل ہے جو 'دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کا قریبی ساتھی اور مشیر تھا۔

تاہم 'پینٹاگون' کے ایک ترجمان کرنل اسٹیو وارن نے ہلاکتوں کی تصدیق سے معذوری ظاہر کی ہے۔

ترجمان نے امریکی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اگر شدت پسند تنظیم کے مذکورہ رہنما ان ٹھکانوں پر موجود تھے جنہیں امریکی طیاروں نے نشانہ بنایا تھا، تو ممکن ہے کہ وہ ہلاک ہوگئے ہوں۔

XS
SM
MD
LG