رسائی کے لنکس

logo-print

دولتِ اسلامیہ نے دوسرے امریکی صحافی کو بھی قتل کردیا


ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص نے عالمی برادری کو دھمکی دی ہے کہ وہ "دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کے شیطانی اتحاد" کی حمایت سے باز رہے۔

عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم 'دولتِ اسلامیہ' نے اپنی تحویل میں موجود دوسرے امریکی صحافی کو بھی مبینہ طور پر قتل کردیا ہے۔

تنظیم کی جانب سے منگل کو انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں شدت پسندوں کو ایک شخص کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو مبینہ طور پر مغوی امریکی صحافی اسٹیون سوٹلوف ہے۔

ویڈیو میں ایک نقاب پوش شخص نے عالمی برادری کو دھمکی دی ہے کہ وہ "دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کے شیطانی اتحاد" کی حمایت سے باز رہے۔

ویڈیو میں دکھائے جانے والے جنگجو کا کہنا ہے کہ اگر 'دولتِ اسلامیہ' کے خلاف امریکی اور دیگر مغربی ملکوں کی کارروائیاں جاری رہیں تو تنظیم اپنی تحویل میں موجود ڈیوڈ ہینز نامی برطانوی مغوی کو بھی قتل کردے گی۔

شدت پسند تنظیم نے گزشتہ ماہ بھی ایک ایسی ہی ویڈیو جاری کی تھی جس میں جنگجووں کو شام میں دو سال قبل لاپتا ہونے والے امریکی صحافی جیمز رائٹ فولی کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

امریکی حکام نے اس ویڈیو کی تصدیق کردی تھی اور کہا تھا کہ شدت پسند تنظیم کے قبضے میں موجود دیگر مغوی امریکیوں کی رہائی کےلیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ امریکی حکام نئی ویڈیو کے درست ہونے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر اس کی تصدیق ہوگئی تو اس سے انہیں سخت صدمہ پہنچے گا۔

'وہائٹ ہاؤس' کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اسٹیون سوٹلوف کے قتل کی تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی دعائیں سوٹلوف کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔

اسٹیون سوٹلوف امریکی جریدوں 'ٹائم' اور 'فارن پالیسی' سے منسلک تھے اور انہیں شدت پسندوں نے اگست 2013ء میں اس وقت اغوا کرلیا تھا جب وہ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لیے شام میں موجود تھے۔

شدت پسندوں کی جانب سے منگل کو جاری کی جانے والی ویڈیو بڑی حد تک جیمز رائٹ فولی کے قتل کی ویڈیو سے ملتی جلتی ہے۔

ویڈیو میں سوٹلوف کو بھی جیمز فولی کی طرح نارنجی کپڑوں میں ملبوس دکھایا گیا ہے جب کہ انہیں قتل کرنے والا نقاب پوش جنگجو سیاہ لباس پہنے ہوئے ہے۔

کسی صحرا میں ریکارڈ کی جانے والی اس ویڈیو میں جنگجو سر قلم کرنے سے قبل سوٹلوف کو بھی اسی طرح زبردستی گھٹنوں پر جھکنے پہ مجبور کر رہے ہیں جس طرح جیمز فولی کو کیا گیا تھا۔

ویڈیو سے یہ ظاہر نہیں ہورہا کہ اسے کب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ نے گزشتہ ماہ عراق میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں اور جنگجووں پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا جس سے عراق اور شام کے وسیع رقبے پر قابض شدت پسند تنظیم کو قابلِ ذکر نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو میں شدت پسندوں نے امریکہ کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے تنظیم کے خلاف عراق میں اپنی مداخلت نہ روکی تو اس کے خلاف ایسے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG