رسائی کے لنکس

logo-print

ہم جنس پرستوں کی فوج میں غیر مشروط شمولیت کی حمایت


ہم جنس پرستوں کی فوج میں غیر مشروط شمولیت کی حمایت

وہائیٹ ہاؤس اور کانگریس کے چند ارکان کے درمیان طے پانے والے ایک سمجھوتے کے بعدہم جنس پرست مرد وخواتین پر کھلے عام امریکی فوج میں شمولیت پر پابندی ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

صدر براک اوباما کی انتظامیہ کے عہدے داروں، پارلیمنٹ کے اراکین اور ہم جنس پرستوں کے نمائندوں کے درمیان اس موضوع پر مذاکرات کے کئی ادوار کے بعد پیر کے روز یہ سمجھوتا طے پایا ہے جسے ناقدین ایک ڈرامائی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

توقع ہے کہ اس سمجھوتے کو دفاعی اخراجات کے بل میں ایک ترمیم کے طور پر شامل کیا جائے گا جس پر رواں ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ ہو گی۔

اس معاہدے میں 1993میں متعارف کرائے گئے اُس قانون کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے تحت ہم جنس پرست امریکی فوج میں اس شرط پر خدمات انجام دینے کے اہل ہیں کہ وہ ساتھی فوجیو ں کوا پنے جنسی رجحان کے بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے اور نہ ہی کوئی اُن سے اس بارے میں سوال کرے گا۔

امریکی فوج اس قانون کی منسوخی کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے جسے یکم دسمبر کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ہم جنس پرستوں سے متعلق پالیسی میں اس تبدیلی سے پہلے صدر اوباما، وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک ملن نے اس بات کی وضاحت کرنی ہو گی کہ اس کے فوج کی تیاری پر کوئی منفی اثرات نہیں ہوں گے۔

صدر اوباما نے جنوری میں کانگریس کے سامنے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں امریکی فوج میں ہم جنس پرستوں کی شمولیت سے متعلق پابندی کے موجودہ قانون کو منسوخ کرنے پر زور دیا تھا جس کی حمایت وزیر دفاع اور ایڈمرل ملن نے بھی کی تھی۔

XS
SM
MD
LG