رسائی کے لنکس

امریکہ: فوجی طیارے کے حادثے میں 16 افراد ہلاک


لیف لور کاؤنٹی کے پولیس سربراہ رکی بینکس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے بیشتر افراد امریکی میرینز ہی تھے۔

امریکہ کی جنوبی ریاست مسی سپی میں ایک فوجی طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوجی طیارہ پیر کی شام مسی سپی کے دارالحکومت جیکسن سے 150 کلومیٹر شمال میں ایک کھیت میں گر کر تباہ ہوا۔

حادثے کی وجوہات کا علم نہیں ہوسکا ہے اور نہ ہی حکام نے یہ بتایا ہے کہ طیارہ کہاں سے اڑا تھا اور اس کی منزل کیا تھی۔

امریکی فوج کی 'میرین کور' کی خاتون ترجمان کیپٹن سارہ برنز نے صحافیوں کو صرف اتنا بتایا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ 'کےسی-130' ساختہ تھا۔

امریکی کمپنی 'لاک ہیڈ مارٹن' کا طیارہ کردہ یہ طیارہ فضا میں دیگر طیاروں میں ایندھن بھرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

طیارہ جس مقام پر گرا وہ مسی سپی کی لیف لور کاؤنٹی میں آتا ہے جہاں کے ہنگامی امداد کے ادارے کے سربراہ فرینک رینڈل نے طیارے کے ملبے سے 16 لاشیں نکالے جانے کی تصدیق کی ہے۔

لیف لور کاؤنٹی کے پولیس سربراہ رکی بینکس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے بیشتر افراد امریکی میرینز ہی تھے۔

انہوں نے کہا کہ تاحال انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ طیارے میں کوئی سویلین بھی سوار تھا۔

علاقے میں فائر بریگیڈ سروس کے انچارج مارکَس بینکس کے مطابق طیارے کا ملبہ آٹھ کلومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔

جائے حادثہ کے نزدیکی شہر گرین وڈ کے ہوائی اڈے کے ایک اہلکار ایلن ہیمنز نے ایک مقامی ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ طیارے کو راڈار پر مانیٹر کیا جارہا تھا جب اسے 20 ہزار فٹ کی بلندی پر بظاہر کسی میکانیکی مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG