رسائی کے لنکس

logo-print

’افغانستان سے فوجیوں کے انخلا سے متعلق کوئی احکامات نہیں ملے‘


فائل فوٹو

امریکی وزیر دفاع، مارک ایسپر نے پیر کے روز کہا ہے کہ افغانستان سے فوج کی تعیناتی میں کمی لانے کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ لیکن، وہ چاہیں گے کہ کچھ افواج کو دیگر مشنز کی جانب منتقل کیا جائے، جن میں انڈو پیسیفک خطے میں چین کے عزائم کو روکنا شامل ہے۔

لگزمبرگ میں قیام کے بعد ملک روانہ ہونے کے موقع پر ایسپر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ وہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے بات کریں گے۔ لیکن، بالآخر یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی کریں گے۔

اس سے قبل، پیر کے روز امریکی فوج نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ فوج میں کمی لانے کے کوئی احکامات موجود نہیں ہیں اور سیکورٹی کے مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ اپنے افغان ساتھیوں کی پوری حمایت کرتا ہے۔

تاہم، افغانستان میں حکام نے ’وائس آف امریکہ‘ سے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ ملک سے ہزاروں کی تعداد میں فوج کے انخلا کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے پر دونوں اتحادی ملکوں کے درمیان باہمی افہام و تفہیم موجود ہے۔

ہفتے کے روز امریکی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ ٹرمپ انتظامیہ اس ہفتے تقریباً 4000 امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

افغانستان کے دورے کے دوران امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے پیر کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ٹرمپ ملک سے فوجوں کے جزوی انخلا کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صدر اس ہفتے فوجوں کے انخلا کا اعلان کریں گے اور اس بات کا امکان ہے کہ اس عمل کا آغاز آئندہ سال سے ہو جائے۔ انھوں نے توجہ دلائی کہ ٹرمپ فوج کی تعداد 8600 کر سکتے ہیں جبکہ اس وقت تعینات فوج کی تعداد 12000 ہے۔

معاون افغان صدارتی ترجمان، دعویٰ خان میناپال نے اتوار کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’افغان اور امریکی حکومتوں کے درمیان 4000 فوجیوں کے انخلا کا معاملہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے‘‘۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ’’مرحلہ وار انخلا‘‘ ہو گا جبکہ انھوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

کابل میں ذرائع نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ فوجوں میں کمی لانے کا عمل تین ماہ کے اندر شروع ہوجائے گا، جس کا انحصار ’’زمینی حقائق پر ہوگا‘‘؛ حالانکہ نظام الاوقات سے متعلق افغان حکومت کی جانب سے فوری سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔

’وائس آف امریکہ‘ کے ایک تحریری سوال کے جواب میں امریکی فوج کے ترجمان نے تردید کی کہ انخلا سے متعلق کوئی نظام الاوقات موجود نہیں ہے کیونکہ فوجیوں میں کمی لانے سے متعلق کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ ’’ہم ریزولوٹ سپورٹ مشن اور اپنے افغان ساتھیوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہم اپنے کلیدی مقصد پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ افغانستان پھر کبھی دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ نہ بن پائے، جہاں سے امریکہ، ہمارے اتحادیوں یا ہمارے مفادات کو کوئی خطرہ لاحق ہو‘‘۔

افغانستان میں تعینات امریکی فوجیں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کرتی ہیں۔ ساتھ ہی ان کا کام نیٹو کے ریزولوٹ سپورٹ مشن کے تحت طالبان سے نبردآزما ہونے کے لیے افغان سیکورٹی افواج کو مشاورت اور تربیت فراہم کرنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG