رسائی کے لنکس

شام کے ہوائی اڈے پر امریکہ کا میزائل حملہ


امریکہ نے شام کے ایک ہوائی اڈے کو ٹام ہاک کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

یہ کارروائی شام میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں رواں ہفتے ایک مہلک کیمیائی حملے کے جواب میں کی گئی۔ ادلب کے علاقے خان شیخون میں کیمیائی حملے میں بچوں اور خواتین سمیت لگ بھگ 100 شہری ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

امریکہ عہدیداروں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مشرقی بحیرہ روم سے 59 ٹام ہاک میزائل شام کے ہوائی اڈے پر داغے گئے۔

روس نے امریکی فوجی کارروائی کی مذمت کی ہے، واضح رہے کہ ماسکو صدر بشار الاسد کی حکومت کو فوجی اور فضائی مدد فراہم کر رہا ہے۔

روس کی طرف سے امریکی کارروائی کو ایک ’’خودمختار ملک کے خلاف جارحیت قرار‘‘ دیتے ہوئے،شام پر محفوظ فضائی نقل و حرکت سے متعلق امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت کو معطل کر دیا گیا۔

اس سے قبل جمعہ کو روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے امریکی میزائل حملے کو ’’بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔‘‘

روس نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرے گا۔


شام کے اتحادی ملک ایران نے بھی امریکی فوج کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔

جمعرات کی شب دیر گئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ اُنھوں نے میزائلوں کی مدد سے کارروائی کا حکم اس لیے دیا کیوں کہ ایسا کرنا امریکہ کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اہم تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ شام میں اس فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا جہاں سے کیمیائی حملہ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے کہ مہلک کیمیائی حملوں کو روکا جائے۔ اُنھوں نے تمام ’مہذب ممالک‘ سے کہا کہ وہ شام میں خونریزی کے خاتمے کے لیے امریکہ کی کوششوں کا ساتھ دیں۔

امریکی فورسز کا کہنا ہے کہ شام کے مغرب میں الشعیرات ’ائیر بیس‘ کو نشانہ بنایا گیا، بتایا جاتا ہے کہ اسی اڈے سے شامی فورسز نے باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں ’سیئرین‘ گیس سے حملہ کیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹیڈ‘ پریس کے مطابق شامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی میزائل حملے میں سات افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔

روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ شام کے ہوائی اڈے پر امریکی میزائل حملے میں اُس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے جمعرات کو کہا کہ ’’بہت اعتماد‘‘ کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ’’سیئرین‘‘ گیس کا حملہ بشار الاسد کی حکومت کے جہازوں سے کیا گیا۔

پینٹاگان کے ترجمان جیف ڈیوس نے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق میزائل حملے سے شامی اڈے، وہاں موجود جہازوں اور دیگر سامان کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

امریکی عہدیداروں نے کہا کہ شام میں ہوائی اڈے سے قبل وہ روسی حکومت سے رابطے میں نہیں تھے، تاہم اس میزائل حملے سے قبل الشعیرات ’ائیر بیس‘ پر موجود روسی فوجیوں سے رابطہ کیا گیا۔

شام میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں کیمیائی حملے پر عالمی برادری نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور اس کی ذمہ داری صدر بشار الاسد کی حکومت اور اس کے اتحادی روس پر عائد کی تھی۔

تاہم جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں شامی وزیرِ خارجہ نے روسی حکومت کے اس دعوے کو دہرایا کہ فضائی حملوں میں باغیوں کے ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا تھا جہاں انہوں نے کیمیائی ہتھیار ذخیرہ کیے ہوئے تھے۔

روسی حکومت کے مرکز 'کریملن' کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر نے شفاف تحقیقات کے بغیر بے بنیاد الزامات لگانے پر برہمی ظاہر کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG