رسائی کے لنکس

logo-print

انتخابات میں روسی مداخلت، مولر کا رپورٹ کے خلاصے پر اعتراض


(فائل فوٹو)

2016ء میں امریکی صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات کرنے والے خصوصی وکیل رابرٹ مولر نے کہا ہے کہ چار صفحات پر مشتمل رپورٹ کے جاری کردہ خلاصے سے تحقیقاتی رپورٹ کا متن پوری طرح بیان نہیں ہو رہا ہے۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق رابرٹ مولر نے اٹارنی جنرل کو لکھے گئے خط میں کہا کہ رپورٹ کے خلاصے میں تحقیقات کے نتائج کے ’مکمل سیاق و سباق، نوعیت اور مواد‘ کا احاطہ نہیں ہوا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ خط مولر نے مارچ کے آخر میں لکھا تھا جب کہ رپورٹ کا خلاصہ 24 مارچ کو جاری کیا گیا تھا۔

رابرٹ مولر کی رپورٹ میں یہ ثابت نہیں ہو سکا تھا کہ 2016ء کے انتخابات میں صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے عہدیداروں کا روس کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا۔

اٹارنی جنرل ولیم بر نے کہا تھا کہ وہ اور ڈپٹی اٹارنی جنرل روڈ سینشنز اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ انصاف کے ترجمان نے اپنے بیان میں مولر کے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ کی سمری جاری کرنے کے بعد اُن کا خط ’میڈیا کی رپورٹنگ‘ پر اُن کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس کا الزام ہے کہ اٹارنی جنرل ولیم بر صدر ٹرمپ کو بچانے کے لیے تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج کو توڑ موڑ رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل ولیم بر نے چار صفحات پر مشتمل رپورٹ کی سمری مکمل رپورٹ کے اجرا سے تین ہفتے قبل جاری کی تھی۔

اسپیشل کونسل رابرٹ ملر نے اپنی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران روس کے ساتھ کسی ساز باز کا بھی کوئی واضح ثبوت نہیں ملا ہے۔

اٹارنی جنرل ولیم بر نے یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں صدر ٹرمپ کی طرف سے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے سلسلے میں کوئی واضح ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے، تاہم رپورٹ میں نہ تو اُنہیں قصور وار قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی اُنہیں مکمل طور پر بری الذمہ کہا گیا ہے۔

ملر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس بات کا فیصلہ وہ اٹارنی جنرل ولیم بر پر چھوڑ رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اس بارے میں کوئی جرم کیا ہے یا نہیں۔

مولر نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’محکمہ انصاف کی جانب سے کانگریس کو بھیجی گئی سمری میں رپورٹ کے نتائج کے مکمل سیاق و سباق، نوعیت اور مواد کو بیان نہیں کیا گیا ہے۔‘

خط کے مطابق ’عوام میں اس حساس نوعیت کی تحقیقات کے نتائج کے بارے میں الجھن ہے جس سے اس مقصد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے جس کے لیے محکمے نے خصوصی کونسل تشکیل دی تھی تاکہ تحقیقات کے نتائج کو مکمل عوامی اعتماد حاصل ہو۔‘

مولر کے ترجمان نے اس خط پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

رابرٹ مولر نے اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ تحقیقاتی رپورٹ کا ابتدائی تعارف اور سمری فوری طور پر جاری کی جائے۔

سینیٹ کی کمیٹی برائے انصاف کے بدھ کے اجلاس میں اٹارنی جنرل ولیم بر سے رابرٹ مولر کے خط کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔

اٹارنی جنرل ولیم بر پہلی مرتبہ پارلیمان کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG