رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: ترکی کو F-35 طیارے نہ دینے پر غور


لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ F-35 لڑاکا طیارہ۔ فائل فوٹو

امریکہ روس سے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی خرایداری پر ترکی کے اصرار کے باعث اسے F-35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی روکنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ترکی F-35 طیارے اور روسی ساختہ S-400 ایئر دیفنس سسٹم دونوں ایک ساتھ نہیں رکھ سکتا۔

امریکہ کی بین الاقوامی امور سے متعلق قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری ڈیفنس کیٹی وھیل بارجر کا کہنا ہے کہ S-400 نظام ایک کمپیوٹر ہے۔ اسی طرح F-35 بھی ایک کمپیوٹر ہے۔ آپ اپنا کمپیوٹر اپنے حریف کے کمپیوٹر سے منسلک نہیں کر سکتے جب کہ ترکی کچھ ایسا ہی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے ترکی کے صدر طیب اردوان کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ روس سے S-400 ایئر دیفنس سسٹم نہ خریدے کیونکہ اس سے امریکہ کے مفادات کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اپنی اس کوشش میں ناکامی کے بعد اب امریکہ سنجیدگی سے F-35 طیاروں کی فراہمی روکنے پر غور کر رہا ہے۔

نیوز ایجنسی رائیٹرز کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ترکی کو یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر وہ روسی ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری کا پروگرام منسوخ کر دے تو امریکہ اسے F-35 کے ساتھ ساتھ اپنا دفاعی نظام ریتھیون پیٹریاٹ سسٹم بھی فراہم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ترکی روسی اور امریکی دونوں نظام خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ لیکن امریکہ نے ترکی خبردار کیا ہے کہ روسی نظام خریدنے کی صورت میں وہ اپنی پیشکش واپس لے لے گا۔

F-35 لڑاکا طیارے معروف پرائیویٹ امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن تیار کرتی ہے اور ان طیاروں کے لینڈنگ گیئر، کاک پٹ ڈسپلے اور انجن سمیت متعدد پرزے ترکی میں تیار کئے جاتے ہیں، جن کی فیکٹری ترکی کے مغربی شہر ایسکی سحر میں موجود ہے۔

امریکی اہل کاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر رائیٹرز کو بتایا ہے کہ اگر امریکہ ترکی کو یہ جدید طیارے نہ دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو ان کے پرزوں کے کارنے کی بھی امریکہ کے کسی یورپی نیٹو اتحادی ملک میں منتقلی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

مرکز برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں ترکی پراجیکٹ کے ڈائریکٹر بلند علی رضا کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے اس بارے میں حتمی فیصلہ کر لیا تو امریکہ اور ترکی کے تعلقات شدید طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ دونوں ملک عرصہ دراز سے ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں اور دو طرفہ تعلقات میں بگاڑ کے شدید اثرات شام اور ایران سے متعلق امریکی حکمت عملی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

کچھ تجزیہ کاروں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ ترکی نیٹو سے دور ہو رہا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ترکی کی طرف سے روسی دفاعی نظام خریدنے کی صورت میں امریکی کانگریس میں ترکی کی امداد بند کرنے کے بارے میں قانون سازی ہونے کا امکان ہے۔

امریکی کانگریس پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر ترکی روسی دفاعی نظام خریدنے کا اپنا منصوبہ ختم نہیں کرتا تو اسے امریکی ہتھیاروں کی فروخت روک دی جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG