رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی بحری بیڑے پر 93 اہلکار کرونا کا شکار، سیلرز کا انخلا شروع


'روز ویلٹ' نامی بحری بیڑے کے کپتان نے وبا سے اہلکاروں کی جان خطرے میں ہونے سے متعلق پینٹاگون کو خط لکھا تھا۔ا (فائل فوٹو)

امریکہ کی بحریہ جوہری ہتھیاروں سے لیس 'روزویلٹ' نامی بحری بیڑے سے ہزاروں اہلکاروں کو نکال رہی ہے۔ بیڑے کے کپتان نے کرونا وائرس کی وبا سے اہلکاروں کی جان خطرے میں ہونے سے متعلق پینٹاگون کو خط لکھا تھا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق روزویلٹ نامی بحری بیڑہ امریکہ کے زیرِ انتظام جزیرے گوام کے قریب موجود ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق بیڑے پر 4800 افراد کا عملہ تعینات تھا۔

بیڑے سے اب تک ایک ہزار اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے 93 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

پیٹاگون کے حکام نے کہا ہے کہ 'روزویلٹ' کے عملے کے لیے فوری طور پر ہوٹلوں میں کمروں کا انتظام کر رہے ہیں جب کہ کچھ صحت مند اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا تاکہ وہ معمول کے کام جاری رکھ سکیں۔

امریکی بحریہ میں میریانا ریجن کے کمانڈر ریئر ایڈمرل جان مینونی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ روزویلٹ پر موجود زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نکال رہے ہیں۔ لیکن کچھ اہلکاروں کو بحری بیڑے پر تعینات رکھنا ہو گا تاکہ معمول کے کام انجام دیے جا سکیں۔

ادھر واشنگٹن میں امریکہ کے قائم مقام سیکریٹری برائے بحریہ تھامس موڈلی نے کہا ہے کہ بحری بیڑے پر تعینات عملے میں سے ایک ہزار کے قریب اہلکاروں کو نکالا جا چکا ہے جب کہ آئندہ دو روز میں یہ تعداد 2700 ہو جائے گی۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انہوں نے عندیہ دیا کہ تقریباً ایک ہزار اہلکاروں کو بیڑے پر ہی تعینات رکھا جائے گا اور بحری بیڑے کو کرونا وائرس کی وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے جراثیم کش ادویات کا اسپرے بھی کیا جائے گا۔

خط لکھنے پر کپتان کو سزا دی جائے گی؟

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق تھامس موڈلی سے جب بار بار یہ پوچھا گیا کہ کیا خط لکھنے پر 'روزویلٹ' کے کپتان بریٹ کروزیئر کو سزا دی جائے گی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا کہ اس خط کو میڈیا میں کس نے لیک کیا۔

ان کے بقول اگر وہ اس کے ذمہ دار ہیں تو یہ عمل نظم و ضبط کے اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن میں نہیں جانتا کہ کون ذمہ دار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ روزویلٹ کے کپتان نے وہ خط اپنے اعلیٰ حکام کو لکھا تھا جس میں انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس پر ردعمل دیا جائے۔

خیال رہے کہ امریکہ کے بحری بیڑے 'روزویلٹ' کے کپتان نے محکمۂ دفاع پینٹاگون کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا کہ کرونا وائرس سے بیڑے پر موجود اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ اس لیے فوری طور پر ان کی مدد کی جائے۔

کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا تھا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے۔ کرونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث 4000 اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی اخبار 'سان فرانسسکو کرونیکل' نے منگل کو بحری بیڑے کے کپتان کی جانب سے پینٹاگون کو لکھا گیا خط بھی شائع کیا تھا۔

خط کے متن کے مطابق کپتان بریٹ کروزیئر نے کہا تھا کہ ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں اور یہ وہ حالات نہیں جن میں بیڑے پر موجود فوجی اپنی جانیں دیں۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انہوں نے کہا تھا کہ بحری بیڑے میں گنجائش کم ہے اور کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اس لیے بیڑے پر موجود اہلکاروں کو قریبی ساحل پر قرنطینہ میں رکھا جائے۔

پینٹاگون کے مطابق اب تک محکمۂ دفاع کے 1400 ملازمین اور کانٹریکٹرز وغیرہ کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں 771 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔

تاہم تھامس موڈلی کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ میں روزویلٹ وہ واحد بیڑا ہے جس کے اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 93 مزید بیڑے مختلف علاقوں میں تعینات ہیں جو اس وبا سے محفوظ ہیں۔

ادھر امریکہ کے وزیرِ دفاع مارک ایسپر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج سماجی دوری اور سینیٹائزیشن کی ہدایات پر عمل کر رہی ہے۔ روزویلٹ پر تعینات کچھ اہلکاروں اور دنیا بھر میں پھیلنے والی یہ وبا امریکی فوج کی جنگی صلاحتیوں کو متاثر نہیں کر سکتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG