رسائی کے لنکس

نیا امریکی طیارہ بردار جہاز دشمنوں پر خوف طاری کردے گا: صدر ٹرمپ


سمندی اُفق پر یہ طیارہ بردار جہاز جہاں بھی  دکھائی دے گا، یہ امریکہ کے اتحادیوں کیلئے اطمنان کا پیغام لائے گا اور ہمارے دشمنوں کیلئے انتہائی خوف کی علامت ہو گا  کیونکہ وہ جان جائیں گے کہ امریکی جہاز آ رہا ہے اور پوری قوت سے آ رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے جدید ترین ٹکنالوجی کے حامل نئے امریکی جنگی جہاز USS Gerald R. Ford کا افتتاح کر دیا ہے جس پر 13 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔افتتاح کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ’’دنیا کیلئے ایک لاکھ ٹن وزنی پیغام ہے اور امریکہ کے دشمنوں کو خوف سے کانپنے پر مجبور کر دے۔‘‘

صدر ٹرمپ نے جوہری توانائی سے چلنے والے اس جدید ترین طیارہ بردار جہاز کو ریاست ورجینیا کے نورفوک بحری اڈے پر امریکی بحریہ کے حوالے کیا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ’’سمندی اُفق پر یہ طیارہ بردار جہاز جہاں بھی دکھائی دے گا، یہ امریکہ کے اتحادیوں کیلئے اطمنان کا پیغام لائے گا اور ہمارے دشمنوں کیلئے انتہائی خوف کی علامت ہو گا کیونکہ وہ جان جائیں گے کہ امریکی جہاز آ رہا ہے اور پوری قوت سے آ رہا ہے۔‘‘

اُنہوں نے کہا کہ اس بیڑے کی وجہ سے ہمیں لڑنے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ لیکن اگر کوئی تنازعہ کی صورت پیدا ہوتی ہے تو ہمیشہ یہ ہماری جیت کی نوید لائے گا۔

صدر ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اُس نے ہماری عسکری تیاری پر بھرپور توجہ نہیں دی۔ اُنہوں نے کانگریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا فرض پورا کرے اور امریکی افواج کیلئے ضرورت کے مطابق مالی وسائل فراہم کرنے کی منظوری دے۔

اس مہنگے ترین طیارہ برادر جہاز کی تیاری کا کام 2009 میں شروع ہوا تھا اور اسے 10 ارب50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے 2015 میں مکمل ہونا تھا لیکن امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ اس کی تیاری میں شامل ہونے والی جدید ترین ٹکنالوجی کی وجہ سے اس کی لاگت اور تیاری کی مدت میں اضافہ ہو گیا۔ یہ بیڑہ 50 برس تک کارآمد ہو گا اور اس کے جوہری توانائی کے پلانٹ سے یہ 20 سال تک بغیر کسی دوسرے ایندھن کے چلتا رہے گا۔

اس طیارہ بردار جہاز کو امریکہ کے 38 ویں صدر جیرالڈ فوڈ سے موسوم کیا گیا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی بحریہ میں لیفٹننٹ کمانڈر تھے۔ نام رکھنے کی تقریب سابق صدر فورڈ کی بیٹی سوزن فورڈ بیلز کے ہاتھوں 2013 میں منعقد ہوئی تھی ۔

فورڈ کلاس کے یہ بحری بیڑے حالیہ طور پر استعمال ہونے والے نیمیٹس سوپر طیارہ بردار جہازوں کی جگہ لیں گے ۔ نیمیٹس طیارہ بردار جہازوں کا بیڑہ جوہری توانائی سے چلنے والے دس جہازوں پر مشتمل ہے۔ ان کا نام دوسری عالمگیر جنگ کے دوران امریکی بحریہ کے ایڈمرل چیسٹر ڈبلیو نیمیٹس کے نام پر رکھا گیا تھا۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ فورڈ کلاس کے پہلے تین طیارہ بردار جہازوں پر 43 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی جن میں امریکہ کے 35 ویں صدر USS John F. Kennedy سے موسوم جہاز کے علاوہ USS Enterprise شامل ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG