رسائی کے لنکس

logo-print

احمد خان راحمی نیویارک بم دھماکے کا ملزم نامزد


ایف بی آئی نے کہا کہ اس نے 2014 میں راحمی سے متعلق معلومات کا اس وقت " جائزہ" لیا جب ان کے والد نے کہا تھا کہ انہیں اپنے بیٹے کے انتہا پسندوں کے ساتھ ممکنہ رابطوں پر تشویش ہے۔

امریکہ میں حکام نے نیویارک اور نیو جرسی میں ہونے والے بم دھماکوں میں مبینہ طور پر ملوث افغان نژاد احمد خان راحمی کو باضابطہ طور پر ملزم نامزد کر دیا گیا ہے۔

راحمی پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس نے بڑے پیمانے پر" تباہی پھیلانے والا ہتھیار" استعمال کرنے کی بھی کوشش کی۔

نیوجرسی میں راحمی اور پولیس کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے بعد راحمی پر اقدام قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ اس واقع میں راحمی زخمی ہو گیا تھا اور اب وہ ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

28 سالہ ملزم پر دہشت گردی کا الزام عائد ہونے سے قبل امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ' ایف بی آئی' نے منگل کو تسلیم کیا کہ اس نے دو سال قبل راحمی کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا تھا تاہم انہیں ایسے شواہد نہیں ملے تھے کہ اس کی مزید تحقیقات کی جا سکیں۔

’ایف بی آئی‘ نے کہا کہ اس نے 2014 میں راحمی سے متعلق معلومات کا اس وقت " جائزہ" لیا جب ان کے والد نے ایف بی آئی کے اہلکاروں کو بتایا تھا کہ انہیں اپنے بیٹے کے انتہا پسندوں کے ساتھ ممکنہ رابطوں پر تشویش ہے۔

تاہم تفتیش کاروں سے بعد میں ہونے والی ایک ملاقات میں محمد راحمی نے اپنے بیان کو تبدیل کر تے ہوئے کہا کہ ان کے لیے تشویش کا باعث اپنے بیٹے کے جرائم پیشہ افراد سے رابطے ہیں۔

’ایف بی آئی‘ کا کہنا ہے کہ اس نے نوجوان راحمی کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی تھی جو مزید تحقیقات کی متقاضی ہو۔

2014 میں جب ایف بی آئی نے راحمی کی سرگرمیوں کی چھان بین کی تو وہ اس وقت مبینہ طور اپنے بھائی کو چاقو مارنے کی بنا پر جیل میں بند تھا۔

استغاثہ نے ابتدائی طور پر نیو جرسی کے علاقے لنڈن میں پولیس سے ہونے والے فائرنگ کے تبادلے کے بعد 28 سالہ راحمی پر پانچ بار اقدام قتل کی کوششوں کا الزام عائد کیا تھا۔ اس واقع میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

راحمی افغانستان میں پیدا ہوا تھا اور سات سال کے عمر میں امریکہ آنے کے بعد اس نے یہاں کی شہریت حاصل کی۔ ہفتے کی رات نیویارک میں جس مقام پر بم کا دھماکا ہوا تھا وہاں نصب کیمروں کی ریکارڈنگ میں راحمی کو اس جگہ کے قریب دیکھا جاسکتا ہے اور اس واقعہ کی کئی گھنٹوں کے بعد وہ اس جگہ سے سینکڑوں میٹر دور دوسرے مقام کے قریب سے گزرتے ہوا نظر آتا ہے جہاں پر نصب ایک بم ملا جو پھٹا نہیں تھا۔

نیویارک بم دھماکے میں 29 افراد زخمی ہوئے اور ان میں زیادہ تر کو معمولی زخم آئے۔ پولیس اور وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ دوسرا بم اس لیے نا پھٹ سکا کیونکہ اس میں کوئی خرابی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ راحمی نیوجرسی میں ایک کوڑے دان میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہے۔

راحمی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ کئی سال پہلے وہ افغانستان اور پاکستان سے ہو کر آیا تھا۔

جب اسے گولی لگی تو تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایک نوٹ بک تھی جس پر انتہاپسندی سے متعلق باتیں لکھی ہو ئی تھیں جن میں ایک امریکی نژاد مسلمان مذہبی شخصیت انوار ال اولیکی کا حوالہ بھی دیا گیا تھا جو 2011 میں یمن میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG