رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کو ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے دلچسپی نہیں


واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اُن امریکیوں کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں

امریکہ نے کہا ہے کہ اُسے ایران کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے سے دلچسپی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اُن تین امریکی نوجوان سیاحوں کا موازنہ، جنہیں ایران نے پکڑا ہوا ہے، اُن ایرانیوں سے نہیں کیا جاسکتا، جنہیں اسلحلہ سمگل کرنے یا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں سزائیں سنائى گئى تھیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کرولی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکہ سیاحوں کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے اور انہوں نے امریکہ کے اس موقف کو دہرایا کہ اُنہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہئیے۔

کرولی نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ امریکی عہدے داروں نے قیدیوں کے کسی تبادلے کے بارے میں ایرانی عہدے داروں کے ساتھ کوئى بات کی ہے۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اس ہفتے کہا تھا کہ ایران نے امریکہ میں قید ا یرانیوں کی رہائى کے بدلے امریکی سیاحوں کی رہائى کے بارے مذاکرات کیے ہیں۔

وہائیٹ ہاؤس کے ترجمان مائیک ہیمر نے مسٹر احمدی نژاد کے بیان سے متعلق اطلاعات کو نامکمل کہا ہے۔ لیکن ہیمر نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر صدر احمدی نژاد کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ایران آگے قدم بڑھانے کے لیے تیار ہے تو امریکہ سیاحوں کے معاملے کو سُلجھانے کا خیر مقدم کرے گا۔

مسڑ احمدی نژاد نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا مذاکرات میں امریکی عہدے دار شریک ہیں۔ نہ ہی انہوں نے یہ بتایا کہ وہ امریکہ کے جیلوں سے کن ایرانی قیدیوں کو رہاکرانا چاہتے ہیں۔

ایران اس سے پہلے یہ الزام عائد کرچکا ہے کہ امریکہ نے اُس کے 11 شہریوں کو قید کیا ہوا ہے۔

ایرانی حکام نے تین امریکی شہریوں کو گذشتہ جولائى میں اُس وقت حراست میں لے لیا تھا، جب وہ غلطی سے سرحد پار کرکے ایران میں داخل ہوئے تھے۔ ایران نے اُن پر جاسوسی کا الزام عائد کیا ہے۔ لیکن اُن کے اہلِ خاندان کا کہنا ہے کہ شَین بوئر، جَوش فَٹال اور سارا شورڈعراق میں کُردوں کے پہاڑی علاقے میں پیدل سیاحت کرتے ہوئے اتفاق سے ایران میں داخل ہوگئے تھے۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اُن امریکیوں کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور اُس نے اُن کی رہائى کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اُن پر مقدمہ چلائے گا۔ لیکن اُس نے مقدمے کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔


تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور دونوں ملکوں کے عہدے داروں کے درمیان برسرِ عام ملاقاتیں شاذونادر ہی ہوتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG