رسائی کے لنکس

امریکی لڑاکا طیاروں کی جزیرہ نما کوریا کے اوپر پروازیں


امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی طرف سے طاقت کا یہ مظاہرہ شمالی کوریا کے میزائل کے اُس تجربے کے دو دن بعد کیا گیا ہے جس میں شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے پر مار کرنے والا ایک بیلسٹک میزائل جاپانی جزیرے ہوکائیڈو کے اوپر سے بحرالکاہل میں داغا تھا۔

امریکہ اور اُس کے اتحادیوں نے ایک بار پھر شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے جزیرہ نما کوریا کے اوپر سے جدید ترین جیٹ طیاروں کی پرواز کی ہے۔

اس مشق میں گوام کے اڈے سے دو B-1 طیاروں کے ساتھ جاپان میں موجود امریکی فوجی اڈے سے چار F-35 لڑاکا جیٹ طیاروں نے جزیرہ نما کوریا کے اوپر 10 گھنٹے تک پرواز کی۔

امریکی جیٹ طیاروں کی پرواز کے دوران جاپان کی مسلح افواج کے طیاروں نے بھی جاپانی پانیوں کے اوپر سے پرواز کی۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا کے چار لڑاکا طیاروں نے بھی جزیرہ نما کوریا میں اُڑان بھری جس کے دوران مشق کے طور پر پلسنگ تربیتی مرکز کی رینج میں گولے برسائے گئے۔

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی طرف سے طاقت کا یہ مظاہرہ شمالی کوریا کے میزائل کے اُس تجربے کے دو دن بعد کیا گیا ہے جس میں شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے پر مار کرنے والا ایک بیلسٹک میزائل جاپانی جزیرے ہوکائیڈو کے اوپر سے بحرالکاہل میں داغا تھا۔

طاقت کے اس مظاہرے سے ایک روز قبل بدھ کے دن امریکی بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ اُس کے ملاحوں نے دفاعی سسٹم کی جانچ کے دوران ہوائی کے ساحل کے قریب درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا تھا۔

شمالی کوریا نے اس سال متعدد میزائیل جاپان کی سمت میں داغے تھے جن میں سے بیشتر بحیرہ جاپان میں گرے تھے۔

امریکی پیسیفک فورسز کے کمانڈر جنرل ٹیرینس اوشوغ نیسی کا کہنا تھا، ’’شمالی کوریا کے اقدامات ہمارے اتحادیوں، شراکت داروں اور خود امریکہ کیلئے خطرے کی علامت ہیں اور ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘‘

اُنہوں نے مذید کہا، ’’اگلی صفوں پر تعینات ہماری افواج دشمن پر حملہ کرنے میں اولین کردار ادا کریں گی اور اگر قوم نے مطالبہ کیا تو محض ایک لمحے کے نوٹس پر انتہائی مؤثر اور مہلک جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘‘

امریکی افواج اکثر شمالی کوریا کی طرف سے اشتعال دلانے کے جواب میں جدید ترین لڑاکا جیٹ طیاروں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی جب شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا تو امریکی اور جنوبی کوریا ئی افواج نے جنوبی کوریا کے سمندری علاقے میں میزائل داغے تھے۔

امریکہ کے جائینٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل جوزف ڈنفورڈ نے اس علاقے کے ایک حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ امریکی افواج کی بنیادی توجہ جزیرہ نما کوریا میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی خاطر صدر کی انتظامیہ کی سفارتی اور اقتصادی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ تاہم اگر یہ کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو امریکی افواج مناسب فوجی کارروائیوں کیلئے پوری طرح تیار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG