رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار امریکہ پہنچ گئے


کم یونگ چول بیجنگ کے ہوائی اڈے سے امریکہ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

جوہری معاملات پر شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار غیر اعلانیہ دورے پر امریکہ پہنچے ہیں جہاں وہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے بات چیت کریں گے۔

شمالی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کم یونگ چول جمعرات کی شام براستہ بیجنگ واشنگٹن ڈی سی پہنچے جہاں جمعے کو ان کی امریکی وزیرِ خارجہ سے ملاقات طے ہے۔

یہ اطلاعات گردش میں ہیں کہ کم یونگ چول شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اور مجوزہ ملاقات کے سلسلے میں بات چیت کے لیے امریکہ آئے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ اپنے اس دورے کے دوران کم یونگ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی مل سکتے ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے تاحال اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

لیکن امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' نے بعض ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ کم یونگ چول اپنے ہمراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام شمالی کوریا کے سربراہ کا ایک اور خط لائے ہیں۔

کم یونگ چول اس سے قبل گزشتہ سال جون میں واشنگٹن ڈی سی آئے تھے جہاں انہوں نے کم جونگ ان کا ایک خط امریکی صدر ٹرمپ کو پہنچایا تھا۔

اس خط کے نتیجے میں شمالی کوریا کے سربراہ اور امریکی صدر کے درمیان پہلی ملاقات کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

بارہ جون کو سنگاپور میں ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

کم یونگ چول شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں جو اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام اور دیگر معاملات پر ماضی میں مائیک پومپیو سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔
کم یونگ چول شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں جو اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام اور دیگر معاملات پر ماضی میں مائیک پومپیو سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔

لیکن اس ملاقات کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے جس پر شمالی کوریا کی حکومت ناراضی کا اظہار کرتی آئی ہے۔

رواں سال کے آغاز پر اپنے خطاب میں کم جونگ ان نے امریکہ کے ساتھ بات چیت آگے نہ بڑھنے اور اپنے ملک پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دوبارہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے خواہش مند ہیں۔

امریکی اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان ایک اور ملاقات کی تیاریوں کی خبریں گزشتہ کئی ہفتوں سے گردش میں ہیں لیکن تاحال دونوں ملکوں کی قیادت نے ان کی تصدیق نہیں کی ہے۔

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم یونگ چول جیسے اہم شمالی کورین رہنما کا دورۂ امریکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطوں اور بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ کم یونگ چول کے ہمراہ شمالی کوریا کی حکومت کے دو دیگر سینئر اہلکار بھی امریکہ پہنچے ہیں لیکن تاحال ان کی شناخت ظاہر نہیں ہوئی ہے۔

کم یونگ چول شمالی کوریا کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں جو اپنے ملک کے ایٹمی پروگرام اور دیگر معاملات پر ماضی میں مائیک پومپیو سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ سال نومبر میں نیویارک میں ملاقات ہونا تھا جسے اچانک منسوخ کردیا گیا تھا۔

اس وقت امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ملاقات شمالی کوریا کی حکومت نے منسوخ کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG