رسائی کے لنکس

محفوظ رہنا ہے تو امریکی جارحیت کا ساتھ نہ دو: شمالی کوریا


جنوبی کوریا اور امریکہ کے جنگی طیارے مشترکہ گشت کر رہے ہیں۔ جون 2017

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے سن 2006 سے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خلاف پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

شمالی کوریا نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جو ممالک شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائی سے خود کو دور اور الگ تھلگ رکھیں گے وہ شمالی کوریا کے غیض وغضب اور رد عمل سے محفوظ رہیں گے۔

شمالی کوریا نے اپنا یہ بیان اقوام متحدہ میں پیش کیا جسے شمالی کوریا کے نائب سفیر کم ان ریانگ نے جنرل اسمبلی میں جوہری ہتھیاروں پر مباحثے کے لیے تیار کیا تھا۔ تاہم نائب سفیر نے اجلاس میں انتباہ سے متعلق پیراگراف باآواز بلند نہیں پڑھا۔

بیان کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جب تک کوئی ملک شمالی کوریا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیتا، ہمارا س ملک کو دھمکانے یا اس کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پورا امریکہ ہمارے جنگی ہتھیاروں کے نشانے پر ہے، اگر امریکہ نے ہماری ایک انچ مقدس زمین پر بھی جارحیت کی تو وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہماری سخت سزا سے خود کو بچا نہیں سکے گا۔

پیانگ یانگ کی جانب سے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کے مسلسل تجربوں کے بعد امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جانگ ان کے درمیان تندو تیز جملوں میں نمایاں طور پر اضافہ ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے سن 2006 سے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خلاف پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے لیے شمالی کوریا کے نائب سفیر کم نے پیر کے روز جنرل اسمبلی کے کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکہ کی جارحانہ پالیسی اور جوہری خطرات کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہم کسی بھی صورت میں مذاكرات کی میز پر اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے دست بردار نہیں ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG