رسائی کے لنکس

logo-print

بجٹ پر مذاکرات کے لیے تیار ہوں، لیکن پہلے شٹ ڈاؤن ختم کیا جائے: اوباما


امریکی صدر نے کہا کہ "ہم امریکہ کی ادائیگیوں کے لیے تاوان نہیں دیں گے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پر کوئی مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں اور سب کو اس پر متفق ہونا چاہیئے۔"

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ بجٹ اور قرضے کی حد سے متعلق کسی قلیل المدت سمجھوتے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

لیکن اُنھوں نے کہا کہ وہ ایسی صورت حال میں ریپبلکنز کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے جب حکومت کا جزوی شٹ ڈاؤن جاری ہے اور امریکی شہری ریپبلکن پارٹی کے بعض عناصر کے اُن کے بقول "بھتہ خوری" کے مترادف مطالبات کی زد میں ہیں۔

مسٹر اوباما نے یہ بات منگل کو ریپبلکن اکثریت والے ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بینر سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔

صدر اوباما نے بینر کو فون کیا اور بتایا کہ وہ ریبپلکنز کے ساتھ صرف اُسی صورت مذاکرات کرنا چاہیں گے جب شٹ ڈاؤن اور قومی قرض کے سلسلے میں نادہندہ بننے کی دھمکی دینا بند کی جائے گی۔

صحافیوں سے گفتگو میں صدر نے کہا کہ "ہم امریکہ کی ادائیگیوں کے لیے تاوان نہیں دیں گے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پر کوئی مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں اور سب کو اس پر متفق ہونا چاہیئے۔"

قبل ازیں جان بینر نے کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات پر زور دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت وسیع تر موضوعات پر ہو سکتی ہے۔

تاہم صدر اوباما نے اسپیکر پر زور دیا تھا کہ وہ قرضے کی حد بڑھانے پر رائے شماری کی غیر مشروط اجازت دیں۔

ایوان نمائندگان کے ریپبلکنز اس بات پر مُصر ہیں کہ صدر اوباما کے صحت عامہ کے پروگرام کو معطل کیا جائے یا اس کے عمل درآمد کو موخر کیا جائے۔ لیکن ڈیموکریٹس کی اکثریت والی سینیٹ نے اس کی اجازت نہ دینے کا عزم کیا ہے۔

ادھر حکومت کا جزوی شٹ ڈاؤن دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG