رسائی کے لنکس

روس اور چین کی خلائی صلاحیتوں میں دو سال میں 70 فی صد اضافہ


چین کا ایک راکٹ خلائی مشن کے لیے روانہ ہو رہا ہے۔
چین کا ایک راکٹ خلائی مشن کے لیے روانہ ہو رہا ہے۔

دفاع سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کے عہدے داروں نے خبردار کیا ہے کہ 2019 کے بعد خلا اور زمین کے مدار میں روس اور چین کے اثاثوں اور سرگرمیوں میں 70 فی صد اضافہ ہو چکا ہے۔

خلا اور خلائی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے عہدے دار جان ہتھ نے پنٹاگان میں خلا میں سیکیورٹی کو درپیش چیلنجز برائے 2022 کی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلا میں ہمارے بنیادی حریف روس اور چین ہمارے اور ہمارے اتحادیوں کی خلا میں موجودگی کی اہمیت گھٹانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

ہتھ کا کہنا تھا خلا میں سیکیورٹی چیلنجز سے متعلق پہلی رپورٹ 2019 میں جاری ہوئی تھی، اس سے بعد سے خلائی سرگرمیوں میں ہمارے حریفوں نے خلا میں رابطوں، ریموٹ کے ذریعے کنٹرول، سمتوں کے تعین، خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت تقریباً تمام شعبوں میں پیش رفت کی ہے۔

حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلا میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور روس اور چین کی فوجی نوعیت کی سرگرمیوں سے خلا اور زمین کے مدار میں گویا ایک بھیڑبھاڑ کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

ہتھ کا مزید کہنا تھا کہ روس اور چین دونوں ہی خلا کو جدید دور کی جنگیں جیتنے کی ایک ضرورت کے طور پر دیکھتے ہیں اور وہ خلا سے متعلق نظاموں پر امریکہ کے مدمقابل آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ روس اور چین میں سے کون بڑا خلائی حریف ہے؟ ہتھ کا کہنا تھا کہ امریکہ دونوں پر ہی نظر رکھے ہوئے ہے۔

بیجنگ کے سٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس کی جانب سے جنوری میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گہا تھا کہ چین خلائی صنعت کو عمومی طور پر قومی حکمت عملی کے ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھتا ہے اور چین پرامن مقاصد کے لیے بیرونی خلا کی تحقیق اور استعمال کے اصولوں پر کاربند ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ چین کے لیے معاشی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ترقی، قومی سلامتی اور سماجی ترقی کے تقاضے پورے کرنے، چینی عوام کا سائنسی اور ثقافتی درجہ بڑھانے، چین کے قومی حقوق اور مفادات کے تحفظ اور مجموعی قوت میں اضافے کے لیے خلائی شعبے میں پیش رفت ضروری ہے۔

ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سینئر ڈیفنس انٹیلی جنس تجزیہ کار برائے خلائی اور کاؤنٹر اسپیس کیون رائیڈر کہتے ہیں کہ زیادہ اقتصادی فوائد کی وجہ سے چین نے اپنی خلائی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور اپنی ترقی کے لیے مزید مالی اور فوجی کوششیں کی ہیں۔

رائڈر کے مطابق، دوسری طرف، روس خلا میں اپنی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روس اور چین چاند اور مریخ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اور ڈیٹا اکھٹا کرنے کے لیےا اقدامات کر رہے ہیں جس سے ان کے مستقبل کے عزائم ظاہر ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG